Teray Sajjad ne baba qaza kayi baar dekhi hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

تیرے سجادؑ نے بابا ، قضا کئی بار دیکھی ہے
پھپھی زینبؑ بِنا چادر ، سرِ بازار دیکھی ہے

سکینہؑ پوچھتی تھی کیا ، اِِسی کو بِھیڑ کہتے ہیں
کہوں کیسے کہ میں نے بھی ، یہ پہلی بار دیکھی ہے

کٹھن ہیں شام کی راہیں ، سسکتی ڈوبتی آہیں
جُھلستی دھوپ اور میں نے ، زمیں پُرخار دیکھی ہے

بدن زخمی ہے دُرّوں سے ، لہو جاری ہے کانوں سے
سکینہؑ کی یتیمی بھی ، بہت لاچار دیکھی ہے

پسِ گردن بندھے تھے ہاتھ ، پردہ تھا بنا خوں کا
یوں دختر فاطمہؑ اور حیدرِ کرّار دیکھی ہے

کٹی جاتی تھی گردن اور ، اٹکتی سانس سینے میں
قضا اور زندگی بابا ، بہت دشوار دیکھی ہے

کچل جاتا تھا بچہ جو ، بھی گرتا ماں کی گودی سے
کئی رستوں پہ چھوٹی سی ، لحد تیار دیکھی ہے

بیاں سجادؑ کے دکھ کا ، کرو رضوان کچھ ایسے
بہاتی خون چشمِ عابدِ ، بیمارؑ دیکھی ہے