یاد شبیرؑ کی بچی کو رلاتی ہی رہی
وقت آخر بھی وہ بابا کو بلاتی ہی رہی
بابا کے سینے پہ سونے کی بڑی عادی تھی
عصر عاشورہ سے اِک لمحہ بھی جو سو نہ سکی
اشک آنکھوں سے مسلسل وہ بہاتی ہی رہی
یاد شبیرؑ کی بچی کو رلاتی ہی رہی
کبھی بابا کو صدا دیتی تھی اکبرؑ کو کبھی
کبھی قاسمؑ کو بلاتی علی اصغرؑ کو کبھی
خود بھی روتی رہی اور سب کو رلاتی ہی رہی
یاد شبیرؑ کی بچی کو رلاتی ہی رہی
دیکھ کر اڑتے پرندوں کو یہی سوچتی تھی
ایسا لگتا ہے نہ گھر لوٹ کے جاؤں گی کبھی
یاد اُسے اپنے مدینے کی ستاتی ہی رہی
یاد شبیرؑ کی بچی کو رلاتی ہی رہی
سہمی سہمی ہوئی زندان میں وہ رہتی تھی
پانی مانگا نہیں اصغرؑ سے جدا ہو کے بھی
پیاس کو پیتی رہی غم کو وہ کھاتی ہی رہی
یاد شبیرؑ کی بچی کو رلاتی ہی رہی
دیکھ کر طشت میں سر بابا کا چِلّا کے کہا
شمر نے مارے ہیں بے جرم طمانچے بابا
اپنے رخسار وہ بابا کو دکھاتی ہی رہی
یاد شبیرؑ کی بچی کو رلاتی ہی رہی
بابا بابا کی صدا قید ہی میں دفن ہوئی
سو گئی موت کی آغوش میں آخر بچی
اور فضّہؑ اُسے رو رو کے جگاتی ہی رہی
یاد شبیرؑ کی بچی کو رلاتی ہی رہی
اے سہیل آنکھوں میں سجّادؑ کے اِک اِک منظر
قافلہ آیا مدینے میں رہا ہو کے مگر
یاد شہزادیؑ کی ہر ایک کو آتی ہی رہی
یاد شبیرؑ کی بچی کو رلاتی ہی رہی