دل تھام کے دی زینب نے صدا، عبّاس کہاں ہو آجاؤ،
لو آخری خیمہ جلنے لگا، عبّاس کہاں ہو آجاؤ۔
میں دُکھیاری غم کی ماری، پہرے پہ کھڑی ہُوں اے غازی،
لُٹنے کو ہے خواہر کا پردہ، عبّاس کہاں ہو آجاؤ۔
ہے شامِ غریباں کا منظر، اُٹھتا ہے دھواں جلنے لگے گھر،
جل جائے نا اب عابد میرا، عبّاس کہاں ہو آجاؤ۔
کھائے ہیں طمانچے بچی نے دامن بھی جلا گوہر بھی چھنے
اب تک ہے سکینہؑ کی یہ صدا عباس کہاں ہو آجائو
زنداں کو چلی ہمشیر تیری، اے ضامنِ چادر اے غازی،
دل ڈُوب رہا ہے زینب کا، عبّاس کہاں ہو آجاؤ۔
زنداں سے رہائی مل تو گئی، بِن تیرے وطن نا جائے گی،
کرلے یہ دُعا منظور خُدا، عبّاس کہاں ہو آجاؤ۔
ریحان لبِ دریا تھا بپا، اِک شورِ قیامت واویلا،
زینب نے جو یہ رو رو کے کہا، عبّاس کہاں ہو آجاؤ۔
Noha Khuwan : Ali Naqvi