ہائے چوم کے سینہ ، روتی ہے سکینہؑ
ڈھونڈے تمہیں مقتل میں ، کہاں جا کے حزینہ
ہائے چوم کے سینہ ، روتی ہے سکینہؑ
بابا مجھے مٹی پہ اب نیند نہیں آتی
کس جا پہ ہو مقتل میں ، آواز تو دینا
ہائے چوم کے سینہ ، روتی ہے سکینہؑ
بابا تیرے قاتل سے میں کہتی رہی رو کے
مت چھین مرے گوہر ، یہ دُر یہ نگینہ
ہائے چوم کے سینہ ، روتی ہے سکینہؑ
سر اپنا کہاں رکھوں مرے بابا بتا مجھ کو
تلواروں سے تیروں سے ، کوئی جا بھی بچی نا
ہائے چوم کے سینہ ، روتی ہے سکینہؑ
جب آخری ضربت کا خنجر تھا رواں تجھ پر
بابا تیری بیٹی کا ، دشوار تھا جینا
ہائے چوم کے سینہ ، روتی ہے سکینہؑ
عباسؑ کے دریا پر دونوں بازو قلم ہو گئے
اب پانی نہ مانگوں گی ، چاچا کو بلانا
ہائے چوم کے سینہ ، روتی ہے سکینہؑ
اِن شام کی راہوں پہ مر جاؤں گی میں پیاسی
لیکن ترے قاتل سے ، پانی نہیں پینا
ہائے چوم کے سینہ ، روتی ہے سکینہؑ
رضوان نے لکھا ہے مقتل کا بیاں رو کر
اک بابا کے لاشے پہ ، اِک بیٹی کا رونا
ہائے چوم کے سینہ ، روتی ہے سکینہؑ