Sun lo apni beti ke aakhri bayan baba
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

سن لو اپنی بیٹی کے آخری بیاں بابا
بند ہونے والی ہے اب میری زباں بابا

قید کے اندھیروں میں گٹھ رہا ہے دم میرا
اب سہی نہیں جاتی مجھ سے سختیاں بابا

جب میرا جوان بھیا ایڑیاں رگڑتا تھا
چُبھ رہی تھیں میرے بھی دل میں برچھیاں بابا

جسم کانپ اٹھتا ہے روح تھرتھراتی ہے
شمر ہم کو دیتا ہے ایسی گھڑکیاں بابا

جب گلے لگایا تھا تم نے ہم کو مقتل میں
آج تک رلاتا ہے ھائے وہ سماں بابا

کان ہو گئے زخمی گال ہو گئے نیلے
ظالموں نے یوں چھینی میری بالیاں بابا

یہ خبر نہیں مجھ کو کب جلا میرا دامن
دور تک تھا آنكھوں کے سامنے دھواں بابا

یہ نزیر اپنا ہے اِسکو بخشوا دینا
اس نے رو کے لکھی ہے میری داستاں بابا