سن لو اپنی بیٹی کے آخری بیاں بابا
بند ہونے والی ہے اب میری زباں بابا
قید کے اندھیروں میں گٹھ رہا ہے دم میرا
اب سہی نہیں جاتی مجھ سے سختیاں بابا
جب میرا جوان بھیا ایڑیاں رگڑتا تھا
چُبھ رہی تھیں میرے بھی دل میں برچھیاں بابا
جسم کانپ اٹھتا ہے روح تھرتھراتی ہے
شمر ہم کو دیتا ہے ایسی گھڑکیاں بابا
جب گلے لگایا تھا تم نے ہم کو مقتل میں
آج تک رلاتا ہے ھائے وہ سماں بابا
کان ہو گئے زخمی گال ہو گئے نیلے
ظالموں نے یوں چھینی میری بالیاں بابا
یہ خبر نہیں مجھ کو کب جلا میرا دامن
دور تک تھا آنكھوں کے سامنے دھواں بابا
یہ نزیر اپنا ہے اِسکو بخشوا دینا
اس نے رو کے لکھی ہے میری داستاں بابا