Ran se aati hay ye paiham Ali Akbar ki sada
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



رن سے آتی ہے یہ پیہم علی اکبرؑ کی صدا
ہائے بابا سینے میں چُبھی ہے میرے ، برچھی کی انی

درد محسوس جب ہوتا ہے تو دم گھٹتا ہے
کون سا درد ہے بابا جو نہیں تھمتا ہے
کس کو آواز دوں ، اب کوئی بھی زندہ نہ رہا
ہائے بابا سینے میں چُبھی ہے میرے ، برچھی کی انی
رن سے آتی ہے یہ پیہم علی اکبرؑ کی صدا

دھوپ بھی تیز ہے اور گرم ہے مقتل کی زمیں
کیا کہوں درد ہے کیسا کہ سکوں ملتا نہیں
میرا سینہ بنا ظالم کا نشانہ بے خطا
ہائے بابا سینے میں چُبھی ہے میرے ، برچھی کی انی
رن سے آتی ہے یہ پیہم علی اکبرؑ کی صدا

ہو سکے آپ سے تو اِِس کو نکالو بابا
زندگی موت سے بیٹے کی بچا لو بابا
ورنہ مر جاؤں گا ، اب درد ہوا حد سے سِوا
ہائے بابا سینے میں چُبھی ہے میرے ، برچھی کی انی
رن سے آتی ہے یہ پیہم علی اکبرؑ کی صدا

اپنے سینے کو میں ہاتھوں سے دبائے ہوں ابھی
زخمِ دل کس کو دکھاؤں میں چھپائے ہوں ابھی
موت آ جائے گی ، سینے سے اگر ہاتھ ہٹا
ہائے بابا سینے میں چُبھی ہے میرے ، برچھی کی انی
رن سے آتی ہے یہ پیہم علی اکبرؑ کی صدا

دل کی دھڑکن کی ہے آواز ٹھہرنے والی
جسم سے روح میرے اب ہے نکلنے والی
موت کی چھانے لگی ، ہے میری نظروں میں گھٹا
ہائے بابا سینے میں چُبھی ہے میرے ، برچھی کی انی
رن سے آتی ہے یہ پیہم علی اکبرؑ کی صدا

دیکھ لوں ایک نظر آپ کو وقتِ رخصت
موت پھر دے گی نہیں دید کی مجھ کو مہلت
آخری ہے یہی ، بس ایک تمنّا با خدا
ہائے بابا سینے میں چُبھی ہے میرے ، برچھی کی انی
رن سے آتی ہے یہ پیہم علی اکبرؑ کی صدا

لڑکھڑاتے ہوئے پہنچے جو شہہ جن و بشر
دیکھا ہاتھوں سے دبائے ہوئے اکبرؑ کو جگر
بند آنکھیں تھیں زباں ، پر تھی یہی ایک صدا
ہائے بابا سینے میں چُبھی ہے میرے ، برچھی کی انی
رن سے آتی ہے یہ پیہم علی اکبرؑ کی صدا

یا علیؑ کہہ کے جو کھینچی شہہ دیںؑ نے وہ انی
کیا ہوا یہ تو کلیجہ نکل آیا یا علیؑ
ایڑیاں خاک پہ ، رگڑیں تو نہ پھر آئی صدا
ہائے بابا سینے میں چُبھی ہے میرے ، برچھی کی انی
رن سے آتی ہے یہ پیہم علی اکبرؑ کی صدا

ایڑیاں خاک پہ بیٹے کو رگڑتے دیکھا
باپ نے اپنے جواں لال کو مرتے دیکھا
اِک صدا رن سے یہ ، آئی میرا اکبرؑ نہ رہا
ہائے بابا سینے میں چُبھی ہے میرے ، برچھی کی انی
رن سے آتی ہے یہ پیہم علی اکبرؑ کی صدا

رو کے مقتل میں یہی کہتے تھے شبیرؑ وسیم
مر نہ جائے کہیں اب زینبِؑ دلگیر وسیم
مر گیا لال میرا ، دشت میں یہ کہتا ہوا
ہائے بابا سینے میں چُبھی ہے میرے ، برچھی کی انی
رن سے آتی ہے یہ پیہم علی اکبرؑ کی صدا