باوفا یا عباس
باوفا غازی میرے
سلام غازی سلام غازی،
وفا کا تو ہے امام غازی
جگہ جگہ ہے علم گواہی
دلوں پہ تیری ہے بادشاہی
لبوں پہ تیرا ہی نام غازی،
وفا کا تو ہے امام غازی
تیرے علم کا ہے ہم پہ سایہ،
علم پہ سایہ ہے پنجتن کا
بلند تیرا مقام غازی،
وفا کا تو ہے امام غازی
باوفا یا عباس
علم کا جب سے ہوا ہے سایہ ،
زمینِ کرب و بلا پہ مولا
تیرا ہی چلتا نظام غازی،
وفا کا تو ہے امام غازی
تو باوفا ہے تو لافتی ہے
بے آسروں کا تو آسراء ہے
جہاں میں چرچا ہے عام غازی،
وفا کا تو ہے امام غازی
باوفا یا عباس
حسین مولا سے پیار کرنا
حسین پر جان نثار کرنا
یہی ہے تیرا پیام غازی،
وفا کا تو ہے امام غازی
جو تیرے بازو قلم نہ ہوتے
اسیر اہلِ حرم نہ ہوتے
نہ جاتی زینب بھی شام غازی،
وفا کا تو ہے امام غازی
غلام شرمندہ ہے یہ مولا،
نہ لاشہ خیموں میں لے کے جانا
تھا لب پہ تیرے کلام غازی،
وفا کا تو ہے امام غازی
جواد و سرور جب آئے سرور
بریدہ بازو تھا ابنِ حیدر
تو کیسے کرتا سلام غازی،
وفا کا تو ہے امام غازی