قاسم جو گرے گھوڑے سے تھا موت کا پہرا
تھا خون میں ڈوبا ہو وہ چاند سا چہرہ
چھلنی تھا بدن تیروں سے ہر زخم تھا گہرا
خوں سر سے بہا بن گیا اَک لڑیوں کا سہرا
اس طرح لرزتا ہو لاشہ نہیں دیکھا
اِس شان کا دولھا کبھی کوئی نہیں دیکھا
ہر جوڑ تھا ٹوٹا ہوا ہر بند جدا تھا
بازو ہے وہ جس پہ کہ تعویز بندھا تھا
کچلا ہوا سینہ تھا لہو سر سے بہا تھا
اِس پھول سے بچے پہ عجب ظلم ہو تھا
یہ وزن تھا ٹاپوں کا وہیں ٹوٹ گئیں تھیں
سب پسلیاں سینے میں کہیں ٹوٹ گئیں تھیں
میداں میں مدد کے لئے چلاتے تھے قاسم
جاتے تھے اِدھر اور اُدھر جاتے تھے قاسم
دم اٹکا تھا اور چین نہیں پاتے تھے قاسم
لگتی تھیں جو ٹاپیں تو تڑپ جاتے تھے قاسم
گھوڑوں سے کچل جانے کی زحمت نہ دکھائے
اللہ کسی کو یہ مصیبت نہ دکھائے
شہہ خاک پہ بھائی کا پسر ڈھونڈ رہے ہیں
میداں میں وہ لاشہ ہے کہاں ڈھونڈ رہے ہیں
آنکھوں میں اندھیرا ہے مگر ڈھونڈ رہے ہیں
پھر بھائی کا ہر لختِ جگر ڈھونڈ رہے ہیں
تیورا کے وہیں گرتے ہیں غش آتا ہے شہہ کو
جب جسم کا ٹکڑہ کوئی مل جاتا ہے شہہ کو
شبیر نے جس کو کبھی گودی میں سلایا
ہاتھوں کو بھی چوما کبھی سینے سے لگایا
تقدیر نے یہ آج عجب وقت دکھایا
لاشہ اُسی بچے کا ہے چادر میں اٹھایا
تھامے ہوئے کونے حسنِ خستہ جگر ہیں
اعضا کی یہ گٹھڑی نہیں فروہ کا پسر ہے
سہہ لیتے ہیں کچھ درد بتائے نہیں جاتے
لاشے کبھی حصوں میں اُٹھائے نہیں جاتے
گر شاہ ردا اپنی بچھائے نہیں جاتے
ٹکڑے کبھی قاسم کے اُٹھائے نہیں جاتے
چادر کو جو تھامے ہوئے عباس کھڑے ہیں
اکبر بھی سہارے کے لئے پاس کھڑے ہیں
کیا حال ہے لاشے کا بتایا نہیں جاتا
شبیر سے صدمہ یہ اُٹھایا نہیں جاتا
گہرا ہے بہت زخم چھپایا نہیں جاتا
خیمے کی طرف بڑھتے ہیں جایا نہیں جاتا
اس غم کا کہاں بار اٹھا پائے گی بیوہ
جب لاشِ پسر دیکھے گی مر جائے گی بیوہ