خون برسا
خون برسا نہ برسنا تھا نہ بادل برسے
ایک اک قطرے کو پانی كے شہہِ دیںؑ ترسے
خون برسا
خون برسا نہ برسنا تھا نہ بادل برسے
پیاس جب حد سے بڑھی رو کے سكینہؑ نے کہا
دور کتنی ہے چچا نہر بتاؤ گھر سے
خون برسا
خون برسا نہ برسنا تھا نہ بادل برسے
اب کہاں خاک پہ بیٹھی ہو سكینہؑ اٹھو
کون آیا ہے پلٹ کر جو گیا رن گھر سے
خون برسا
خون برسا نہ برسنا تھا نہ بادل برسے
گُھڑکیاں شمر کی کھائیں جو کیا باپ کو یاد
کان كے درد سے روئی تو تمانچے برسے
خون برسا
خون برسا نہ برسنا تھا نہ بادل برسے
ابھی شبیرؑ ہے زندہ وہیں ٹھہرو زینبؑ
تم کو اکبرؑ کی قسم تم نہ نکلنا گھر سے
خون برسا
خون برسا نہ برسنا تھا نہ بادل برسے
میرے نانا كے مدینے تجھے زینبؑ کا سلام
ٹھوکریں کھا کے پلٹ آئی ہوں میں در در سے
خون برسا
خون برسا نہ برسنا تھا نہ بادل برسے
حق و باطل کا ہو ٹکراؤ تو دل لڑتے ہیں
جنگ یہ جیتی نہیں جاتی کبھی لشکر سے
خون برسا
خون برسا نہ برسنا تھا نہ بادل برسے
ایک اک قطرے کو پانی كے شہہِ دیںؑ ترسے
خون برسا
خون برسا نہ برسنا تھا نہ بادل برسے