Chadarain sar pe nahi sath alamdar nahi
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

چادریں سر پہ نہیں ساتھ علمدار نہیں
دیس بیگانہ یہاں کوئی مددگار نہیں

شامیوں شرم کرو دور ہٹو پردہ کرو
زہرا ثانی ہے کبھی آئی یہ بازار نہیں

اے شمر ظلم نہ کر رُو کے یہ فضہ نے کہا
تازیانوں کے قابل عابدِ بیمار نہیں

تیسرا دن ہے درِ ساعت پہ زینب ہے کھڑی
ہے ابھی دیر سجا شام کا دربار نہیں

اے مسلمانوں مجھے چند ردائیں دے دو
مانگتا اِس كے سوا کچھ بھی یہ بیمار نہیں

چادریں گر نہیں دیتے تو بتاؤ مجھ کو
کیا نبی زادیاں یہ خمس کی حق دار نہیں

--------------------------------------
چسمِ سجاد میں یہ خون کے دھارے کیوں ہیں
اِس کے رونے کا سبب طوقِ گراں بار نہیں

راستے کیسے ہیں یہ کیسی ہیں گلیاں لوگو
اِن سے واقف یہ میرے عترتِ اطہار نہیں

کیوں یہ ہر گام مجھے خون رلائے غیرت
میری اِن آنکھوں نے دیکھے کبھی بازار نہیں

ساتھ اماں ہیں میری اور سِناں پر بابا
مجھ کو لے جانا ابھی ظلم کے دربار نہیں

میری غیرت بھی بُکا کرنے لگی ہے مجھ پر
بے ردا اہلِ حرم کوئی مددگار نہیں

دھوپ ہے سر پہ کڑی اُس پہ ستم خاکِ سفر
میری تقدیر میں اب سائہءِ دیوار نہیں

امتحاں کیسا ہے یہ بھائی مجھے بتلا دو
جنگ لڑنی ہے مگر ہاتھ میں تلوار نہیں

راز مظہر یہ کھلا قیدِ ستم میں اِک دن
جس کو بیمار سمجھتے تھے وہ بیمار نہیں