Bazhar Kay Manzer ko Aur Apnay Kulay sir ko
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں

بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں
اپنے بندھے ہاتھوں کو بیمار کے زیور کو بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں
اُٹھتی ہوئی آندھی کو وحشت کو بیاباں کو
چھُپتے ہوئے سورج کوتاریکی کو میداں کو
چلتے ہوئے خنجر کو نیزے پہ تیرے سر کو بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں
جس رات میں تنہا تھی اُس رات کے ڈھلنے کو
ٹوٹے ہوئے نیزے کو اُس رات کے پہرے کو
بچوں کے سسکنے کو اور خاک کے بسترکو بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں
لہراتے ہوئے نیزہ اور شمر کا وہ بڑھنا
آ آ کے میرے پیچھے ہر بی بی کا وہ چھُپنا
شعلوں میں گھرے گھر کو چھِنتی ہوئی چادرکو بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں
اک چاند تھا بد لی میں چھُپتا تھا نکلتا تھا
پردہ درِ خیمہ کا اُٹھتا کبھی گرتا تھا
وہ خیمئہ لیلیٰ سے ہائے رُخصتِ اکبر کو بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں
یاد آتا ہے دولہن کو غش کس طرح آئے تھے
اک گٹھڑی شاہِ والا جب کاندھوں پہ لائے تھے
اس لاش کی گٹھڑی کو اُس خوں بھری چادر کو بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں
فضّہ کو میرا بھائی ماں کہہ کے بُلاتا تھا
د م اُس کا میرے بھائی کے نام پہ جاتا تھا
رُتبے میں وہ ماں بن کر آئی اُسی مادر کو بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں
معصوم سکینہ کو بڑھتے ہوئے نیزوں کو
سرخ ھوئے گالوں کوبے رحم طماچوں کو
رستے ھوئے کانوں کوچھنتے ھوئے گوہر کو بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں
یاد آتا ہے اک ماں کا،وہ خاک میں دھنس جانا
اور آگ کے شعلوں میں وہ ماں کا جھُلس جانا
جلتے ھوئے جھولے سے لپٹی ھوئی مادر کو بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں
اُن شام کی گلیوں کو جن سے کھُلے سر گزرے
جس در سے گزرنے میں تھے سولہ پہر گزرے
دربار کے اُس در کواور شامیوں کے شرکو بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں
ہے اج بھی وہ گریہ ہے آج بھی وہ زاری
ہے آج بھی پتھر کے سینے سے لہو جاری
روتے ہوئے پتھر کو پتھر پہ رکھے سر کو بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں
آتی ہے نوید اب بھی آواز یہ زینب کی
ہے مجھ کو قسم صدیوں سے سوکھے ہوئے لب کی
پیاسے علی اصغر کو سوکھے ہوئے ساغر کو بھولی نہیں میں
بازار کے منظر کو اور اپنے کھُلے سر کوبھولی نہیں میں