رَو رَو کے علیؑ ، کیوں لیتے ہیں زینبؑ کا نام مصّلے پر
کیا یاد علیؑ کو آیا ہے بازار شام مصّلے پر
رَو رَو کے علیؑ . کیوں لیتے ہے زینبؑ کا نام مصّلے پر
خوں جاری تھا زخمی سر سے ، روتے تھے نمازی صف میں کھڑے
کس طرح حسنؑ . نے رَو رَو کر کی نماز تمام مصّلے پر
رَو رَو کے علیؑ ، کیوں لیتے ہیں زینبؑ کا نام مصّلے پر
کیا ماں کی طرح تم کو لینے مسجد میں چلی آئے زینبؑ
بابا کو جا کر ، ہے دو فضہؑ ، میرا پیغام مصّلے پر
رَو رَو کے علیؑ ، کیوں لیتے ہیں زینبؑ کا نام مصّلے پر
زخمی پہلو جب یاد آیا زخمی پیشانی بھول گیا
زہراؑ کی مصیبت ، پر رویا ، مظلوم امام مصّلے پر
رَو رَو کے علیؑ ، کیوں لیتے ہیں زینبؑ کا نام مصّلے پر
یہ پہلی فجر ہے زینبؑ کی سجدے میں سکون ملتا ہی نہیں
دِل ڈوبتا ہے ، آتا ہی نہیں ، اک پل آرام مصّلے پر
رَو رَو کے علیؑ ، کیوں لیتے ہیں زینبؑ کا نام مصّلے پر
دیوار کعبہ بیٹھ گئی الحمد لہو میں ڈوب گئی
امت سے ملا ، ہے مولا کو ، کیسا انعام مصّلے پر
رَو رَو کے علیؑ ، کیوں لیتے ہیں زینبؑ کا نام مصّلے پر
اس غیرت دار کی غربت پر روتی ہے علیؑ کی غربت بھی
چالیس برس ، جو کہتا رہا ، الشام الشام مصّلے پر
رَو رَو کے علیؑ ، کیوں لیتے ہیں زینبؑ کا نام مصّلے پر
شبیرؑ کی جانب سے اکبر قاتل کو پلایا تھا شربت
جب یاد علیؑ ، کو آیا تھا ، اک تشنہ کام مصّلے پر
رَو رَو کے علیؑ ، کیوں لیتے ہیں زینبؑ کا نام مصّلے پر