Sultan e ambiya ka gham ham ne manaya hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

سلطانِ انبیاءؐ کا غم ہم نے منایا ہے
فرشِ عزا بچھا کر ، زہراؑ کو بلایا ہے

چودہ سو برس پہلے جو اٹھ نہیں سکا تھا
تابوت مصطفیٰؐ کا ، ہم نے وہ اٹھایا ہے

حسنینؑ رو رہے ہیں گریہ کناں ہیں زہراؑ
کنبے پہ رسالت کے ، غم کیسا یہ چھایا ہے

اُمّت کا باپ لوگو دنیا سے جا رہا ہے
پُرسے میں کلمہ گو نے ، دروازہ جلایا ہے

احسانِ رسالت کا کیسا اجر دیا ہے
دربار میں بُلا کر ، زہراؑ کو رلایا ہے

تم کیسے مسلماں ہو یہ پوچھتی ہیں زہراؑ
بابا کے جنازے پہ ، کوئی بھی نہ آیا ہے

گریہ رسول زادی کا ہر دل کو چیرتا ہے
تنہا ہی جنازے پر ، ہئے اشک بہایا ہے

مولا علیؑ کو مل کر مجبور کر دیا ہے
فرمانِ رسالت کو ، اِک پل میں بُھلایا ہے

تاریکی چھا گئی ہو روشن دنوں پہ جیسے
زہراؑ کو مسلماں نے ، کچھ ایسے ستایا ہے

مل کر اٹھا رہے ہیں تابوت کو فرشتے
رضوان نے یہ نوحہ ، اُن کو بھی سنایا ہے

----------------------------------------------

ماتم کناں فرشتے روتے ہیں انبیاء سب
رضوان کے نوحے نے ، سب کو ہی رلایا یے


آئے ہیں جنازے پر جبریلؑ اور ملائک
رضوان نے یہ نوحہ اُن کو بھی سنایا ہے