رہائی قید سے
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi


رہائی قید سے زینبؑ کو جب ملی ہوگی
بنا حسینؑ کے، وہ کیسے گھر گئی ہوگی



اے نانا تیرے نواسے کو ، تیری امت نے
دفن کیا ہے یا عریاں ہی ، بن میں چھوڑ دیا

بتول زادی یہی ، بات سوچتی ہوگی



لٹی تھی دشت میں جو چادریں سیدانیوں کی
لوٹائیں عابدِؑ بیمار کو لعینوں نے

علیؑ کی لاڈلی حسرت سے دیکھتی ہوگی



وہ چھ ماہ کے بچے کو ، تیر مارا تھا
وہ شیر خوار کا لاشہ ، سِنا پہ آیا تھا

بتولؑ لحد میں ، منہ اپنا پیٹتی ہوگی



پڑے تھے لاشے جوانوں کے ، دشتِ کربل میں
پڑا تھا غازیؑ کا لاشہ ، بغیر شانوں کے

جوان بھائی کے ، شانوں کو ڈھونڈتی ہو گی



گیا جو قافلہ مقتل میں ، آلِ احمدؑ کا
ویران دشت میں ہر بی بی ، اپنے پیاروں کو

کڑکتی دھوپ میں ، رو رو کے ڈھونڈتی ہوگی



گئی تھی ساتھ تمہارے ، سکینہؑ کربل میں
کہاں ہے بھیا مجھے کیوں ، نظر نہیں آتی

بیمار صغراؑ یہ ، عابد سے پوچھتی ہوگی



سنی جو بالی سکینہ نے ، خبر یہ اختر
کہ سب چلے ہیں مجھے چھوڑ کر مدینے کو

معصومہ قبر میں ، تنہا ہی رو رہی ہوگی