Mashhad may Musalmaan ne haey zulm ye dhaya hay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

مشھد میں مسلماں نے کیا ظلم یہ ڈھایا ہے
پردیس میں مولا کو ہئے ہئے
پردیس میں مولا کو سم ہائے پلایا ہے

خونِ جگر کے قطرے حلقُوم سے تھے نکلے
مثل حسن رضا کادل ہو گیا تھا ٹکڑے
پھر وارث حسن پہ ، ہئے ہئے
پھر وارث حسن پہ ، کیا ظلم یہ ڈھایا ہے
مشھد میں مسلماں نے ہئے ظلم یہ ڈھایا ہے

اُمّت نے رسالت کا کیسا اجر دیا ہے
کاظم کے دُلارے کــــو ہئے قتل کر دیا ہے
پھر فاطمہ زہرا کو ہئے ہئے
پھر فاطمہ زہرا کو ، مرقد میں رُلایا ہے
مشھد میں مسلماں نے ہئے ظلم یہ ڈھایا ہے

مولا رضا کی بہنیں فریاد کر رہی ہیں
بھیا سے کب ملیں گے یہ رو کے پوچھتی ہیں
صدمہ یہ جدائی کا ، ہئے ہئے
صدمہ یہ جدائی کا ، کیسا اے خدایا ہے
مشھد میں مسلماں نے ہئے ظلم یہ ڈھایا ہے

ماں جائے سے بچھڑ کر سر اپنا پیٹتی ہے
مولا رضا کی بہنا رو رو کے کہہ رہی ہے
غم بھائی کی فرقت کا ، ہئے ہئے
غم بھائی کی فرقت کا ، ہمشیر نے پایا ہے
مشھد میں مسلماں نے ہئے ظلم یہ ڈھایا ہے

کاظم کی لاڈلی کے دل کی یہ ارزو ہے
بھائی سے اک بہن کو ملنے کی جستجو ہے
معصومہ کو دن کیسا ، ہئے ہئے
معصومہ کو دن کیسا ، غربت نے دکھایا ہے
مشھد میں مسلماں نے ہئے ظلم یہ ڈھایا

رضوان سب جنازہ مل کر اٹھا رہے ہیں
نانا بھی آ گئے ہیں بابا بھی آ گئے ہیں
ہر سمت سماں غم کا ، ہئے ہئے
ہر سمت سماں غم کا ، ماحول پہ چھایا ہے
مشھد میں مسلماں نے ہئے ظلم یہ ڈھایا ہے