May Hussain hoon
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



ہائے
مولا ، مولا، مولا
جب لشکر حسین سرِ خاک سو گیا
حسین یا حسین مولا
اور فاطمہ کے لال کا کوئی نہیں رہا
ھل من مغیثنا کی شہہ دیں نے دی صدا
گونجا فضا میں آخری خطبہ حسینؑ کا
حسین یا حسین مولا
میں نبی(ص) کی آنکھوں کا نور ہوں
میں علی (ع) کے دل کا سرور ہوں
میری ماں ہیں جنابِ سیدہ
میرا بھائی حسن دلِ مصطفیٰ (ص)
میری ہمقدم میری دو بہن
میرا بھائی غازی قرارِ من
میں حسین ہوں ، وہ حسین ہوں
میں سوار دوشِ رسول(ص) ہوں
میں حسین جانِ بتول ہوں
میں کلامِ رب کی مثال ہوں
میں گھرانہ لازوال ہوں
مجھے ناز اپنے چمن پہ ہے
میں ہوں پانچواں رکنِ پنجتن
میں حسین وارثِ دین ہوں
میں گماں نہیں میں یقین ہوں
مجھے عشق نامِ خدا سے ہے
میری جنگ اہلِ دغا سے ہے
میری زندگی میرے رب کی ہے
میں چلاہوں گھر سے لیے کفن
میں حسین ہوں ، وہ حسین ہوں
میں ہزار صدمے اٹھا چکا
میں چراغ اپنے بجھا چکا
میں تمام لشکر گنواء چکا
میں زمینِ مقتل سجا چکا
لو میں ذوالجناح سے گر گیا
نہ ہے زیں پہ اور زمیں پہ تن
میں حسین ہوں ، وہ حسین ہوں
لو میں نوکِ نیزہ پہ آگیا
میں کمال ِ مقصد کو پاگیا
تہہ تیغ سجدہ ادا کیا
میں اٹھا تو پیشِ خدا گیا
ہے صدائے ھل من کا معجزہ
ہے جہاں میں زندہ میرا سخن
میں حسین ہوں ، وہ حسین ہوں
میں حسین جانِ کربلا
ہے یہاں کی مٹی میں بھی شفا
لو ریحان و سرور کرو دعا
رہے سایہ سب پہ حسین کا
رہے حشر تک یہی سلسلہ
یہی اک صدا ہو زمیں زمن
میں حسین ہوں ، وہ حسین ہوں