مومنو فاطمہ زہرا کا بھرا گھر اجڑا
حق کی پاداش میں اللہ کا لشکر اجڑا
دین کی راہ میں ہے دین کا سرور اجڑا
بھائی عباس کا زینب کا برادر اجڑا
نرغہءِ اعدا میں فرزند پیمبر آیا
پیاسا ساحل كے کنارے دلِ حیدر آیا
کربلا آن كے گھر بار لٹایا میں نے
وعدہ نانا سے کیا تھا جو نبھایا میں نے
اپنے بچوں کو برادر کو کٹایا میں نے
ننھے اصغرؑ کو بھی ریتی پہ سلایا میں نے
شدّتِ غم سے پھٹا جاتا ہے سینہ میرا
سخت دشوار ہوا جاتا ہے جینا میرا
گرم ریتی پہ کِیا سر کو جُھکا کر سجدہ
اور ہوئے خالقِ اکبر سے یوں سرورؑ گویا
اکبرؑ و اصغرؑ و عباسؑ کیے تجھ پہ فدا
قاسمؑ و عونؑ و محمدؑ کو بھی قربان کیا
تیری مرضی پہ بھرے گھر کو لٹایا میں نے
تیری چاہت میں نہیں کچھ بھی بچایا میں نے
تیر سے نیزوں سے برچھی سے بدن زخمی ہے
روح زخمی ہے جگر زخمی ہے تن زخمی ہے
پیاس سے جاں ہے بہ لب اور دھن زخمی ہے
شب بھی زخمی ہے یہ عاشور کا دن زخمی ہے
چور زخموں سے ہوں پاس اپنے بلا لو اماں
قتل ہوتا ہوں نگاہوں کو ہٹا لو اماں