مومنو بیکس و بے یار ہے مظلوم حسینؑ
سخت آفت میں گرفتار ہے مظلوم حسینؑ
دل شکستہ جگر افگار ہے مظلوم حسینؑ
کیا سَرا سیمہ و لاچار ہے مظلوم حسینؑ
تیر کاری ہیں لگے زخموں پہ شمشیروں کے
نیزوں کے زخم میں پیوست ہیں پَھل تیروں کے
کیا رحیمی ہے کہ غصہ نہیں آتا ہے ذرا
کیا کریمی ہے کہ سر کر تے ہیں امّت پر فدا
کیا تحمّل ہے کہ ہر گام پہ ہے شُکرِ خدا
کیا شجاعت ہے کہ لاکھوں میں کھڑے ہیں تنہا
تیر بھی نیزے بھی سینے پہ لئے جاتے ہیں
پر دعا نانا کی امّت کو دئے جاتے ہیں
یوں تو یاں ایک سے اِک ظلم ہوا شہہؑ پہ سِوا
تین صدموں میں مگر ضبط کا یارا نہ رہا
اِک جواں اِس کا بھتیجا تھا حسنؑ کا بیٹا
شب کو وہ دولھا بنا صبح شھیدوں میں مِلا
آُس کے مرنے کی خبر بیووں نے جب پائی تھی
ماں دلہن کو لئے سر ننگے نکل آئی تھی
دوسرا غم ہے یہ اِک بھائی تھا اِس کا صفدرؑ
جب سے وہ مر گیا سیدھی نہیں ہوتی ہے کمر
اب بھی روتا ہے اُسے ہائے برادر کہہ کر
بے کفن لاش تو اُس کی ہے پڑی دریا پر
ابھی وہ لاش جب درد سے تھرّائی تھی
بچی اِک ہائے چچا کہہ کے جو چلّائی تھی
تیسرا حادثہ میں کیا کہوں پھٹتا ہے جگر
اِس کا اِک بپٹا تھا اٹھارہ برس کا اکبرؑ
برچھیوں سے ابھی مارا گیا وہ رشکِ قمر
حیف ہے دفن ہوئی رات کو جس کی مادر
غمِ اکبرؑ میں اُسے کیا کہوں کیونکر دیکھا
چسمِ افلاک نے زینبؑ کو کھلے سر دیکھا