Shabbir ka noha tha Amma tum kahan ho
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

ہاۓ میری پیاری ماں ہاۓ میری پیاری ماں
ہاۓ میری پیاری ماں ہاۓ میری پیاری ماں

میں رہے گیا تنہا اماں کہاں ہو تم
شبیرؑ کا تھا نوحہ اماں کہاں ہو تم


گھر آگیا ہوں عابد مضطر سونپ کر
زینبؑ کے پاس لاڈلی دُختر کو سونپ کر
میں رہے گیا اکیلا اماں کہاں ہو تم

شبیرؑ کا تھا نوحہ اماں کہاں ہو تم


اکبرؑ بھی قتل ہوگئے غازیؑ نہیں رہا
لاچار کے سوا میرا کوئی نہیں رہا
میں رہے گیا اکیلا اماں کہاں ہو تم

شبیرؑ کا تھا نوحہ اماں کہاں ہو تم


اُم رابابؑ کے یہ مقدر کی قبر ہے
جلتی ہوئی زمینِ پر اصغرؑ کی قبر ہے
میں رہے گیا اکیلا اماں کہاں ہو تم

شبیرؑ کا تھا نوحہ اماں کہاں ہو تم


ہم کربلا کے دشت میں آکر اُجڑ گئے
کل رات تک جو ساتھ تھے وہ سب بچھڑ گئے
میں رہے گیا اکیلا اماں کہاں ہو تم

شبیرؑ کا تھا نوحہ اماں کہاں ہو تم


زینبؑ کی بےردائی کا ساماں قریب ہے
دن ڈھل رہا ہے شامِ غریباں قریب ہے
میں رہے گیا اکیلا اماں کہاں ہو تم

شبیرؑ کا تھا نوحہ اماں کہاں ہو تم


اب خیمے جلانے والے ہیں لوٹنے کو ہے ردا
ہو کر اسیر جاۓ گا زنداں کو قافلہ
میں رہے گیا اکیلا اماں کہاں ہو تم

شبیرؑ کا تھا نوحہ اماں کہاں ہو تم


اب ہم بھی مرنے جاتے ہیں مقتل قریب ہے
بےآب قتل ہونا ہمارا نصیب ہے
میں رہے گیا اکیلا اماں کہاں ہو تم

شبیرؑ کا تھا نوحہ اماں کہاں ہو تم


کرب و بلا میں میر تکلّمؔ تھی کربلا
آتی تھی علیؔ یہ کسی مظلوم کی صدا
میں رہے گیا اکیلا اماں کہاں ہو تم

شبیرؑ کا تھا نوحہ اماں کہاں ہو تم