Madh e Haider jab sunanay ham sar e mimbar chalay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



مدحِ حیدر پم سنانے جب سرِ منبر چلے
سر پہ جبریلِ امیںؑ سایہ کئے ہمسر چلے

ایسا حیدرؑ کے علاوہ کون ہے بتلائیے
کون ہے جس کی سفارش قبر کے اندر چلے

شک غلو کا ہم پہ ہے تو ھَل اَتَا ہے پوچھ لو
خالی ہاتھ آئے تھے سائل اور جھولی بھر چلے

آ گئی صبحِ عزاء اے روزہ داروں آگئی
چرخ سے کرتے ہوے ماتم مہہ و اختر

رہ گئی مُرغابیاں دامن پکڑتی چیختی
گھر سے مسجد کے لئے جب حیدرِؑ صفدر چلے

تیغ اُدھر بد کار کی مسجد میں حیدرؑ پر چلی
اُس گھڑی کلثوم و زینبؑ پر اِدھر خنجر چلے

ابنِ ملجم تو نے یہ کیا ظلم حیدرؑ پر کیا
ہاتھ تیرے ایک روزہ دار پر کیونکر چلے

ہائے کعبے میں گئے مسجد سے یہ کہتے علیؑ
ربِّ کعبہ کی قسم ہم کامراں ہو کر چلے

لغزشوں پر اپنی دو آنسو پر بہا لیجئے شہاب
اِ س سے پہلے کہ یہ ساغر زندگی کا بھر چلے