خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
(انجمن زینبیہ ، بمبئی ، بھارت)
خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
سکینہؑ قید سے واپس نہ آئی
کھلی زنجیر عابد کے قدم کی
ردائیں مل گئیں اہل حرم کی
رسن گردن سے اْس کی کھْل نہ پائی
خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
کفن کرْتا لحد زندا ں کا گوشہ
گیا نہ مر کے قسمت کا اندہیرا
رہائی ہے رھائی ہے رھائی ہے
خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
کہا بانو نے کیسے گھر کو جاؤں
جگر کی آگ کو کیسے بجھاؤں
میری بچی کو کیسی نیند آئی
خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
جگاتی ہوں ہلا کے اس کا شانہ
نہ کا آیا میرا رونا رولانا
ارے کیا مرگئی غم کی ستائی
خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
بہت ارمان تھا گھر جانے کا اْس کو
ذرا عابد میری بچی سے کہدو
چلو گہر کو سواری ہے منگائی
خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
چچا سے باپ سے بھائی سے بچھڑی
میری بچی کی تھی تقدیر کیسی
خوشی چو تھے برس نہ راس آئی
خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
لگی تھی آگ دامن میں بجھادی
ہوئی وہ تِشنگی سہنے کی عادی
مگر جو آگ پانی نے لگائی
خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
لوئیں کانوں کی چھو کر پوچھتی تھی
روانی رْک گئی ہے کیا لہو کی
لہو کی بوند دامن پر نہ آئیں
خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
انَدھیروں سے کیا کرتی تھی باتیں
اْجالے پِھر سے کَب دیکھیں گی آنکھیں
انَدھیروں نے ہَنسی اْس کی اْڑائی
خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
بنی زنِِِدان میں قبرِ سکینہؑ
تھا زہراؑ کی طرح صبرِسکینہؑ
عجب قسمت تھی اِس بچی نے پائی
خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
قلم ریحان ؔ آہیں بھر رہا ہے
نہ جانے اس تیرے نوحے میں کیا ہے
لہو ھونے لگی ہے روشنائی
خبر یہ شام سے زینبؑ ہے لائی
(طالبِ دعا:محمد حسنین کورنگی کراچی)