Jese dar-e-Zehra(sa) ko
Efforts: سید زیب حیدر زیدی

جیسے درِ زہرہؑ کو بجھاتی رہیں فضہؑ
یوں آگ سے خیموں کو بچاتی رہیں فضہؑ

بازو سرِ بازار تو رسی میں بندھے تھے
اور رستے میں زینبؑ کے کئی خار بچھے تھے
اُن خاروں کو پیروں سے ہٹاتی رہیں فضہؑ

دربار سے آتی ہوئی زہرہؑ کو سنبھالا
دربار میں جاتی ہوئی  زینبؑ کو چھپایا
ماں بیٹی کے یوں درد بٹاتی رہیں فضہؑ

یہ دنیا گئی چھوڑ کے جب دادی تمھاری
زینبؑ کو میں ایسے ہی دیا کرتی تھی لوری
یہ کہہ کے سکینہؑ کو سلاتی رہیں فضہؑ

اک شمع ہے اک ہاتھ ہے اور تربتِ زہرہؑ
اک شمع ہے اک ہاتھ ہے اور قبرِ سکینہؑ
یوں برسوں دئیے روز جلاتی رہیں فضہؑ