Teri ummat ne meray ghar ko jalaya baba
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

تیری اُمت نے میرے دَر کو جلایا بابا
پھر وہ جلتا ہوا دَر مجھ پے گِرایا بابا

لوٹ کر آئی تو چہرہ بھی میرا زخمی تھا
میری زینبؑ کو میری پیشی کا پہلا نوحہ
میرے بالوں کی سفیدی نے سُنایا بابا

راکھ تھی شعلے تھے سہمے ہوئے بچے یا دھواں
میرے آنگن میں تھا اِک شامِ غریباں کا سماں
در ہٹا کر مجھے فضہؑ نے اُٹھایا بابا

بیٹھ کر پڑھتی ہوں مُشکل سے نمازِ شب بھی
پھر بھی عباسؑ کی خلقت کی دُعا بھولی نہیں
جب بھی زخمی ہوئےہاتھوں کو اُٹھایا بابا

لے چلے قیدی بنا کر جو علیؑ کو دُشمن
میں نے چھوڑا نہیں حیدرؑ کی عبا کا دامن
تازیانوں نے مگر مجھ سے چھڑایا بابا

کون سا در ہے جہاں آپ کی بیٹی نہ گئی
ارے بات سُننا تو کُجا یوں ہوئی عزت میری
کوئی دروازے سے باہر نہیں آیا بابا

زخمی حالت میں بھی دہلیز سے باہر آئی
پر علی ولی الله بچا کر لائی
میں نے جو وعدہ کیا تھا وہ نبھایا بابا
 
جس جگہ آپ نے رُک رُک کے اجازت مانگی
وہاں گستاخ مسلمانوں نے بیعت مانگی
ارے کوئی شعلے تو کوئی لکڑیاں لایا بابا

خود یہ دیکھا ہے تیرے شہر کی دیواروں نے
کیسی غربت تھی کے ہاتھوں میں ستم داروں نے
رسیاں باندھ کے حیدرؑ کو پھرایا بابا

عرش اور فرش پہ محسنؔ ہوا کہرام بپا
جس گھڑی رو کو وِلایت کی شہیدہ نے کہا
مجھ کو ہنس ہنس کو زمانے نے رُلایا بابا