Yabnaz Zehra - Mola Abbas(as)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

یابَن الزّھراؑ - یابَن الزّھراؑ

اے عباسؑ تو ہی ہے دعائے سیدہ
دلوں کی آس ہے تو آرزوئے مصطفیٰؐ
نمازِ شب میں تجھ کو مانگا بُو تُراب نے
خدا نے ہے کیا عطا عظیم مرتبہ
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ

پنجتنؑ کی پانچ اماموںؑ کی تُو آس ہے
قمر ہے اہلبیتؑ کا دِلوں كے پاس ہے
سُنا ہے ہو گا مہدیءِ زماںؑ کی فوج میں
وفورِ شوق میں یہ زندگی اُداس ہے
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ

تِرے سہارے مشک اور عَلَم اٹھاتے ہیں
عَلَم پہ آ كے ہم تیری نذر دِلاتے ہیں
تمام بیٹے ہی علیؑ كے ہیں علیؑ مگر
عَلَم فقط تجھے ملا یہی بتاتے ہیں
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ

علقمہ پہ تو نے وہ لڑا ہے معرکہ 
یزیدیوں كے سر قلم کیے ہزار-ھا 
ہر طرف تھا شورِ الامان الحفیظ 
كہ جیسے کر رہے ہوں پِھر علیؑ مُقاتَلہ 
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ

سكینہؑ جانِ شاہِ دیں ترستی رہ گئی
عَلم جو دیکھا ڈوبتا سسکتی رہ گئی
یقین ہو گیا لعین ظلم ڈھائیں گے
چچا بچا نہ پائیں گے بلکتی رہ گئی
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ

زینبِ حزیںؑ کو تیرا مان تھا بڑا
تِرے سہارے آگئی تھی دشتِ کربلا
محافظِ حسینؑ قتل جب کہ ہو گیا
الحجاب کی صدائیں گونجی برملا
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ

رسن میں باندھ کر جو لے چلے عَدَو تمام
بس ایک تھی بیمارِ کربلاؑ کو فکرِ شام
رسن تھی ایک بارہ تھے گلے بندھے ہوئے
بَازار میں لیا گیا تھا عِصمتوں کا نام
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ

السّلام محافظِ حسین السّلام
وفا کی انجمن کے آپ تنہا ہیں امامؑ
سلام عقیدتوں کا ہے یہ رضواں کا کلام
سلام آپ کو کریں زمانے کے امامؑ
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ

غلام یہ حقیر اور یہ ماتمی تمام
(سید رضوان رضوی)