یابَن الزّھراؑ - یابَن الزّھراؑ
---------------------
علیؑ کا جانشین ہے دُعائے سیدہؑ
دلوں کی آس ہے وہ دھڑکنوں کی ہے دعا
نمازِ شب میں مانگا ہے ابُو تُراب نے
خدا نے ہے عطا کیا عظیم مرتبہ
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ
وفا پرستوں کی وفا کی تُو ہی آس ہے
قمر ہے اہلِ بیتؑ کا دِلوں كے پاس ہے
تِرے سہارے آئی ہیں علیؑ کی بیٹیاں
محافظِ حسینؑ کربلا شناس ہے
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ
تِرا ہی نام لے کے ہم عَلَم سجاتے ہیں
عَلَم پہ آ کے حالِ دل تجھے سُناتے ہیں
علیؑ كے سارے بیٹے ہی علیؑ تو ہیں مگر
عَلَم فقط تجھے مِلا یہی بتاتے ہیں
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ
فرات کے قریب جو لڑا ہے معرکہ
یزیدیوں كے سر قلم کیے ہزار-ھا
چمکتی تھی اَجَل کی تیغ رن میں ہر طرف
سبھی یہ کہتے تھے کہ لڑ رہے ہیں مرتضیٰ
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ
سكینہؑ جانِ شاہِ دیں ترستی رہ گئی
عَلَم جو دیکھا ڈوبتا سسکتی رہ گئی
یقین ہو گیا لعین ظُلم ڈھائیں گے
چچا بچا نہ پائیں گے تڑپتی رہ گئی
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ
علیؑ کی لاڈلی کو تیرا مان تھا بڑا
تِرے سہارے آ گئی تھی دشتِ کربلا
محافظِ حسینؑ جب شہید ہو گیا
صدائیں وا مصیبتا کی گونجیں ہر جگہ
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ
رسن میں ہاتھ ہیں بندھے کھڑی ہیں بی بیاں
کھڑا ہے سر جھکائے ساتھ ایک ناتواں
جلے ہوئے علم کو دیکھتے ہیں یاس سے
چچا کہاں ہو آتی ہے سکینہؑ کی فغاں
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ
سلام اے محافظِ حسینؑ السّلام
وفا کی انجمن کے آپ یکتا ہیں امامؑ
غلام یہ حقیر ہے یہ ماتمی تمام
سلام آپ کو کریں زمانے کے امامؑ
یابن الزّھراؑ - یابن الزّھراؑ
(سید رضوان رضوی)