پانچ اماموں کا رہا بن كے سہارا عباسؑ
فاطمہ زہراؑ کا بیٹا بنو ہاشم کا قمر
چودہ معصوموں کی ہے آنکھ کا تارا عباسؑ
کوئی کیا سمجھے اسے جس کو کہے آلِ نبیؑ
ہم ہیں غمخوار زمانے كے ہمارا عباسؑ
خود ہی مشکییزے میں عباسؑ كے آ جاتی فرات
اس کو کر دیتے اگر ایک اشارہ عباسؑ
تیری تربت كے جو زوّار ہیں بتلاتے ہیں
علقمہ پر ہے تیرا اب بھی اِجارا عباسؑ
شہہؑ نے عباسؑ کو سونپی جو سپہ سالاری
ہر زمانے میں فقط ایک ہی نعرہ عباسؑ
وہ تو کہیے نہ ملا اذن وِغا غازیؑ کو
ورنہ کس جنگ میں افواج سے ہارا عباسؑ
دے كے مشکیزہ سكینہؑ سے کہا سرورؑ نے
لوٹ كے رن سے نہ آئے گا تمہارا عباسؑ
حسرت و یاس سے تکتے تھے حرم اور حسینؑ
لے كے مشکییزہ جو میداں کو سِدھارا عباسؑ
رکھ كے سر بازو پہ عباسؑ کا کہتے تھے حسینؑ
ساتھ غربت میں نہ یوں چھوڑو خدارا عباسؑ
سر برھنا جو حرم تھے سرِ نوک سینا
دیکھتا کیسے بھلا شرم کا مارا عباسؑ
چادریں چھننے پہ یاد آیا ہر اک بی بی کو
ہر تمانچہ پہ سكینہؑ نے پکارا عباسؑ
سبطِ جعفر ہو عزادار کو کیوں حشر کی فکر
ہو گا واں پہلے سے موجود ہمارا عباسؑ