Soz collection
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

ہائے اکبرؑ کا دم نکلتا ہے
نوجوانی کا باغ اجڑتا ہے
باپ کے سامنے جوان بیٹا
خاک پر ایڑھیاں رگڑتا ہے

جب نوجواں کی لاش نہ پائی حسینؑ نے
ٹھوکر ہر ایک گام پہ کھائی حسینؑ نے
گر کر زمیں پہ خاک اڑائی حسینؑ نے
دل تھام کر یہ بات سنائی حسینؑ نے
آنکھوں سے سوجتا نہیں مجھ دل ملول کو
اے ظالموں دکھا دو شبیہِ رسول کو

اے عزیزوں کیا بیاں ہو ماجرہء اہل بیت
جب رہا وارث نہ کوئی سر پہ ہائے اہل بیت
اور لگا لٹنے وہاں عصمت سرائے اہل بیت
کیا کہوں اُس وقت کی میں ہائے ہائے اہل بیت
پیٹ کر رو رو کے کہتے تھے یہی باشورو شین
ہم کو مت لوٹو لعینوں ہم ہیں ناموسِ حسینؑ