kash Abbas na mare jatey
Efforts: Ali Rafi Rizvi



کاش عباس نہ مارے جاتے
کاش عباس نہ مارے جاتے

دونوں بازو وہ شہنشاہِ وفا کے تھامے
لاشِ عباس پہ شبیر بکا کرتے تھے
بھائی تم بعد ہمارے جاتے
کاش عباس نہ مارے جاتے

اس طرح لگتی نہ اکبر کے کلیجے میں سناء
اس طرح ہوتی نہ سادات کے خیموں میں فغاں
یوں نہ زینب کے سہارے جاتے
کاش عباس نہ مارے جاتے

گردنِ شاہ پہ یوں رن میں  نہ خنجر چلتا
یوں نہ  خورشیدِ امامت سرِ مقتل ڈھلتا
یوں نہ سر نیزوں پہ سارے جاتے
کاش عباس نہ مارےجاتے

ہوتے عباسِ دلاور تو نہ خیمے جلتے
شامِ غربت نہ سکینہ کو طمانچے لگتے
گوشوارے نہ اتارے جاتے
کاش عباس نہ مارے جاتے

ہو کے پابند ِرسن سید ِسجاد چلے
نہر کو دیکھ کے روتے ہوئے یہ کہنے لگے
سب وطن ساتھ ہمارے جاتے
کاش عباس نہ مارے جاتے

ہوتے عباس تو چھنتی نہ ردا زینب کی
پائوں میں عابد ِمضطر کے نہ بیڑی ڈلتی
تازیانے بھی نہ مارے جاتے 
کاش عباس نہ مارے جاتے

کبھی چہرہ کبھی بازو کبھی سینہ پیٹا
قید خانے سے وطن آئی تو زینب نے کہا
دن نہ یوں غم میں گزارے جاتے
کاش عباس نہ مارے جاتے

آج بھی آتی ہے یہ قبر ِسکینہ سے صدا
اے چچا لاتی نہ زندان میں یوں ہم کو قضا
ساتھ گر ہم بھی تمہارے جاتے
کاش عباس نہ مارے جاتے

حالِ کربل جو کوئی پوچھتا تھا نور علی
رو کہ زینب یہی کہتی تھی سدا نور علی
کاش عباس نہ مارے جاتے
کاش عباس نہ مارے جاتے