یاد آئی نہ تمہیں فاطمہ صغرا بابا
کربلا جا کے ہمیں بھول گئے کیا بابا
ہائے کس کس کا گلہ کس کی شکایت لکھوں
ایک نامہ بھی کسی نے تو نہ لکھا بابا
کہہ گئے تھے میرے بھائی تمہیں لے جائوں گا
کیا ہوا آئے نہ لینے مجھے بھیا بابا
اب تو اصغر بھی میرا گھٹنیوں چلتا ہوگا
میرے بھیا کو میرا نام بتانا بابا
سو رہے ہوں علی اصغر جو اگر جھولے میں
میری جانب سے اسے جھولا جھلانا بابا
نوحہ حسرت میری تم غور سے سن لو ان کو
میرے بھیا کو میری قبر پہ لانا بابا
میں تڑپتے ہی تڑپتے ہی گزر جائوں گی
اب جو آنا تو میری قبر پہ آنا بابا
میں سمجھتی ہوں کہ بھائی نے رچا لی شادی
اس لئے آئے نہ لینے مجھے بھیا بابا
نام سن کر میرا ہمکے تو تمہیں میری قسم
میری جانب سے کلیجے سے لگانا بابا
روز محشر تمہیں صغرا علی اصغر کی قسم
کہنا بابا سے نہ جعفر کو بھلانا بابا