وہ بس کربلا ہے ، وہ بس کربلا ہے
جہاں بہر سجدہ فلک بھی جھکا ہے
جہاں قصرِ باطل گرایا گیا ہے
شریعت کا سجدہ بقا مانگتا ہے
كہ کعبہ جہاں سے شِفا مانگتا ہے
جہاں پر خدا بھی بسایا گیا ہے
ہے جنت جہاں فاطمہؑ بانٹتی ہے
وہاں موت بھی دیکھیے کانپتی ہے
جہاں ہر یزیدی مٹایا گیا ہے
جو اپنے خدا سے بھی لڑتا رہا ہے
كہ آدَم کا انکار کرتا رہا ہے
وہ ابلیس جس جا جھکایا گیا ہے
ہوئی سجدہ گاہ جو زمانے کی خاطر
محمدؐ كے بیٹے كے سجدے کی خاطر
جہاں عرش رب کا بچھایا گیا ہے
وفاؤں کی غیرت كے رب سو گئے ہیں
جو کرتے تھے انکا ادب سو گئے ہیں
طہارت کا خیمہ جلایا گیا ہے
جہاں دوستی دشمنی کُھل رہی ہے
جہاں روشنی ہر قدم جل رہی ہے
جہاں حرؑ کو اعلیٰ بنایا گیا ہے
یہ اکبرؑ پکارے یہ اصغرؑ پکارے
سرِ کربلا یہ بہتّر پکارے
جہاں جان دینا سکھایا گیا ہے
کیا ہے ملائک نے سجدہ جہاں پر
جہاں صرف آہ و بُکا ہے زُبان پر
جہاں خونِ زہراؑ بہایا گیا ہے
یہ مقتل میں رتبہ ہوا کس کو حاصل
جہاں بہرِ خدمت پہنچنا تھا مشکل
وہاں بی بی فضّہ کا سایہ گیا ہے
جہاں روشنی کی بچھی اِک ردا ہے
جہاں سر با سجدہ صفِ انبیاء ہے
جہاں سَر سِنا پر اٹھایا گیا ہے
خدا دیکھتا ہے جسے مصطفیٰؑ میں
جسے بنتِ حیدرؑ نے پالا ردا میں
سِنا پہ وہ اکبرؑ اٹھایا گیا ہے
امامِ زمانؑ كے سبھی منتظر ہیں
خدا کی قسم سب نبیؑ منتظر ہیں
جہاں اُن کا مسکن بنایا گیا ہے