یا فاطمہؑ پُرسہ لو ، موسیٰ بنِ جعفرؑ کا
غربت میں جسے ہائے ، بے جرم و خطا مارا
بے رحم لعینوں نے ، یوں زہر دیا کاری
ہے سانس کا لینا بھی ، مولاؑ پہ میرے بھاری
اور جاری بدن سے ہے ، خوں بن كے جگر سارا
یا فاطمہؑ پُرسہ لو موسیٰ بنِ جعفرؑ کا
سجادؑ کی طرح سے ، زنجیر میں ہیں جکڑے
اور ٹکڑے کلیجہ بھی ، شبرؑ کی طرح سے ہے
شبیرؑ کی غربت کا ، اِظہار ہے دوبارہ
یا فاطمہؑ پُرسہ لو ، موسیٰ بنِ جعفرؑ کا
یاں موسیٰءِ كاظمؑ جو ، خون منه سے اکلتے ہیں
شبیرؑ اُدھر اپنی ، تربت سے نکلتے ہیں
پُرسے كے لئے آئے ، یثرب سے تیرے بابا
یا فاطمہؑ پُرسہ لو ، موسیٰ بنِ جعفرؑ کا
پھیری ہیں نگاہیں جو ، زہراؑ تیرے بچوں سے
بغداد كے کلمہ گو ، کاندھا بھی نہیں دیتے
مزدور اُٹھاتے ہیں ، لاشہ میرے مولاؑ کا
یا فاطمہؑ پُرسہ لو ، موسیٰ بنِ جعفرؑ کا