Yabnaz Zahra ya Moosa bine Jafar
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



سیدّی مولا 
السّلام علیکَ یا موسیِٰ كاظمؑ
یا ابن الزہراؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ 
بابُ الحوائج ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
سیدّی مولا

کیسا قیدی ہے كہ مرنے پہ بھی آزاد نہیں 
کیسی غربت ہے جنازے پہ بھی فریاد نہیں 
میرے مولاؑ پہ ہوئی کونسی اُفتاد نہیں 
ہائے نزدیک کوئی رونے کو اولاد نہیں 
     بیکس و تنہا ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     یا ابن الزہراؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     سیدّی مولا

ملکہءِ قم کا پَدر والیءِ مشھد کا پَدر 
سیرت مصطفوی وارثِ حوضِ کوثر 
ھائے مظلومی جنازہ ہے سرِ راہِ گزر 
جب کہ موجود ہیں رونے کو پسر اور دختر 
     پُل پہ تھا لاشہ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     یا ابن الزہراؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     سیدّی مولا

قید میں چودہ برس کیسے گزارے ہونگے 
صورتِ اشک مصلّے پہ ستارے ہونگے 
طوق و زنجیر بھلا کِس نے اُتارے ہونگے 
غمزدہ عرش پہ قرآن كے پارے ہونگے 
     کیسے دوں پُرسہ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ 
     یا ابن الزہراؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     سیدّی مولا

قیدِ تنہائی تھی اور مُوسیِ كاظمؑ مولا 
ختم بینائی تھی اور مُوسیِ كاظمؑ مولا 
ستم آرائی تھی اور مُوسیِ كاظمؑ مولا 
موت گھبرائی تھی اور مُوسیِ كاظمؑ مولا 
     وقت کھڑا تھا ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     یا ابن الزہراؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     سیدّی مولا

کثرتِ سجدہ سے گٹھڑی سا بدن آپ کا تھا 
لوگ کہتے تھے مصلؔے پہ ہے کپڑا سا پڑا 
پر قضا ہو نہ سکا وقتِ شہادت سجدہ 
دم بہ دم آتی رہی عرش سے آوازِ خدا 
     دیر نہ کر آ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ 
     یا ابن الزہراؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     سیدّی مولا

حاکمِ وقت نے کیسا یہ ستم ڈھایا ہے 
قبر میں مادرِ حسنینؑ کو تڑپایا ہے 
زہر خُرموں میں میرے مولاؑ کو دلوایا ہے 
جَسَدِ پاک کو مزدوروں سے اٹھوایا ہے 
     روتی تھیں زہراؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ 
     یا ابن الزہراؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     سیدّی مولا

کوئی ایسا نہ تھا میّت کو کفن پہنائے 
مشھَد و قُم میں کوئی جا کے خبر پہنچائے 
رونے والے نہ تھے مزدور جنازہ لائے 
گریہ کرنے کو جنازے پہ پرندے آئے 
     آسماں رویا ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     یا ابن الزہراؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     سیدّی مولا

ابنِ جعفرؑ نہ اسیری پہ ستم پر روئے 
طوق پر روئے نہ زنجیرِ قدم پر روئے 
ہاں اگر روئے تو بس شاہِ اُمم پر روئے 
اپنے جد عابدِ بیمارؑ كے غم پر روئے 
     پڑھتے تھے نوحہ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ 
     یا ابن الزہراؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     سیدّی مولا

روتے رہتے تھے شہہِ کرب و بلا كے غم میں 
بندگی سے ہوئے فارغ تو رہے ماتم میں 
اکبرؑ و قاسمؑ و عباسؑ تھے چشمِ نم میں 
سانس کی ڈوریاں ٹوٹی ہیں اِسی عالم میں 
     ہاں میرے مولاؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     یا ابن الزہراؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     سیدّی مولا

السّلام اے میرے مظلوم غریبُ الغُرباء 
السّلام اے رَسن و جَور میں پابندِ جفا 
السّلام اے شرفِ بابِ حوائج مولاؑ
الوداع سرور و ریحان كے آقا مولاؑ
     دیتے ہیں پرسہ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     یا ابن الزہراؑ ، یا موسیٰ بنِ جعفرؑ
     سیدّی مولا