بچّے کو لے کے گود میں شبیرؑ نے کہا
اب میرے ساتھ جائے گا رن میں یہ مَہ لقا
شاید سبِیل نکلے کوئی پانی کی ذرا
ممکن ہُوا تو مَیں اِسے پانی پلاؤں گا
اُمّت کو بخشوانے کاساماں لئے ہُوئے
مَیداں میں آئے رحل پرقرآں لئے ہُوئے
------------------------------------------
بولے یہ فوجِ شام سے اَے فوجِ اشقیاء
فرطِ عطش سے مرتا ہَے یہ میرا لاڈلا
گر تم ہمارے درپئے آزار ہو تو کیا
بچّے کا کیا قصور ہے بتلاؤ تم ذرا
کس جُرم پر یہ پانی سے محرُوم ہوتا ہے
بچّہ ہر ایک دِین میں معصوم ہوتا ہے
---------------------------------------------
اِس بات کے جواب میں پھینکا گیا تھا تیر
وہ تِین بھال کا تھا وہ پیکِ قضا کا تیر
وہ طفلِ شِیر خوار کے قد سے بڑا تھا تیر
حلقِ صغیر و بازوئے شہؑ پر لگا تھا تیر
بازُو پہ اپنے روک نہ لیتے جو تیر کو
اُڑ جاتا ساتھ لے کے وہ لاشِ صغیر کو
---------------------------------------
رُخصت ہُوا جو ہچکیاں لے کے وہ ماہ رُو
مُنہ پر مَلا حسینؑ نے بے شِیر کا لَہُو
دیکھا عجیب یاس سے مقتل میں چار سُو
بچّے کو دفن کرنے چلے شاہِ نیک خو
دیکھا نہ تھا سِتم کو کبھی اَیسے رنگ میں
بچّے بھی دفن ہوتے ہیں مَیدانِ جنگ میں
--------------------------------------
اصغرؑ نے جنگ جِیت کے یہ جنگ ختم کی
تھی وقتِ عصر سجدہءِ شبیرؑ کی کمی
سجدہ ادا ہُوا تو گلے پر چُھری چلی
خیمے جلے بسی ہُوئی سرکار لُٹ گئی
اہلِ حرم کے دل میں نیا زخم پڑ گیا
اِک دوپہر میں جِن کا بھرا گھر اُجڑ گیا