Bachay ko le ke goad may Shabbir ne kaha
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

بچّے کو لے کے گود میں شبیرؑ نے کہا           شاید سبِیل نکلے کوئی پانی کی ذرا
اب میرے ساتھ جائے گا رن میں یہ مَہ لقا      ممکن ہُوا تو مَیں اِسے پانی پلاؤں گا           
                  اُمّت کو بخشوانے کاساماں لئے ہُوئے
                 مَیداں میں آئے رحل پرقرآں لئے ہُوئے

بولے یہ فوجِ شام سے اَے فوجِ اشقیاء         گر تم ہمارے درپئے آزار ہو تو کیا
فرطِ عطش سے مرتا ہَے یہ میرا لاڈلا         بچّے کا کیا قصور ہے بتلاؤ تم ذرا
                کس جُرم پر یہ پانی سے محرُوم ہوتا ہے
                 بچّہ ہر ایک دِین میں معصوم ہوتا ہے

اِس بات کے جواب میں پھینکا گیا تھا تیر          وہ طفلِ شِیر خوار کے قد سے بڑا تھا تیر
وہ تِین بھال کا تھا پیکِ قضا کا تیر              حلقِ صغیر و بازوئے شہؑ پر لگا تھا تیر
                  بازُو پہ اپنے روک نہ لیتے جو تیر کو
                  اُڑ جاتا ساتھ لے کے وہ لاشِ صغیر کو

رُخصت ہُوا جو ہچکیاں لے کے وہ ماہ رُو   	دیکھا عجیب یاس سے مقتل میں چار سُو
مُنہ پر مَلا حسینؑ نے بے شِیر کا لَہُو               بچّے کو دفن کرنے چلے شاہِ نیک خو
               دیکھا نہ تھا سِتم کو کبھی اَیسے رنگ میں
                بچّے بھی دفن ہوتے ہیں مَیدانِ جنگ میں

اصغرؑ نے جنگ جِیت کے یہ جنگ ختم کی         سجدہ ادا ہُوا تو گلے پر چُھری چلی
تھی وقتِ عصر سجدہءِ شبیرؑ کی کمی       خیمے جلے بسی ہُوئی سرکار لُٹ گئی
                  اہلِ حرم کے دل میں نیا زخم پڑ گیا
                 اِک دوپہر میں جِن کا بھرا گھر اُجڑ گیا