اربعیں كے سوگوارو الوداع
چہلم کی مجلس ہے یارو الوداع
خاتمہ بالخیر چہلم کا ہوا
الوداع اے اشک بارو الوداع
اربعیں كے سوگوارو الوداع
چہلم کی مجلس ہے یارو الوداع
اکبرؑ و اصغرؑ علیؑ کی ظامینی
نوجوانوں شیر خواروں الوداع
اربعیں كے سوگوارو الوداع
چہلم کی مجلس ہے یارو الوداع
کہتے تھے گنجِ شہیداں پر حرم
فاطمہ زہراؑ كے پیارو الوداع
اربعیں كے سوگوارو الوداع
چہلم کی مجلس ہے یارو الوداع
کربلا کی خاک کو سونپا تمہیں
عرشِ اعظم كے ستارو الوداع
اربعیں كے سوگوارو الوداع
چہلم کی مجلس ہے یارو الوداع
قبر پر بیٹوں کی زینبؑ نے کہا
ماں وطن جاتی ہے پیارو الوداع
اربعیں كے سوگوارو الوداع
چہلم کی مجلس ہے یارو الوداع
دشت سُونا پاس بستی بھی نہیں
بے دیارو بے مزارو الوداع
اربعیں كے سوگوارو الوداع
چہلم کی مجلس ہے یارو الوداع
قبر سے آواز دیتے ہیں حسینؑ
لو بہن زینبؑ سِدھارو الوداع
اربعیں كے سوگوارو الوداع
چہلم کی مجلس ہے یارو الوداع