بابا اے میرے بابا، آؤ ڈھل گیا سورج
نوحہ تھا سکینہؑ کا، آؤ ڈھل گیا سورج
صرف اپنے سینے پر شب گزار لینے دو
چین سے میرے بابا اک دفعہ تو سو لینے دو
صبح پھر چلے جانا، آو ڈھل گیا سورج
دونوں ہاتھ پھیلائے میں تمہیں بلاتی ہوں
اس اندھیرے زندان میں کتنا گھبراتی ہوں
اب نہیں رہا جاتا، آو ڈھل گیا سورج
بس تمہارے جاتے ہی گھر جلے، چھنی چادر
شمر میرے کانوں سے چھین لے گیا گوہر
ظلم ہوگئے کیا کیا، آق ڈھل گیا سورج
کیا تمہیں گوارا ہے میں یتیم کہلائوں
دشمنوں کی بستی میں کیسے دل بہلائوں
بے ردا ہوں بے سایہ، آو ڈھل گیا سورج
شام تک سبھی اپنے گھر لوٹ آتے ہیں
کتنا ہم تو رو رو کر انتظار کرتے ہیں
تم کب آئو گے بابا، آئو ڈھل گیا سورج
رات ہوگئی بابا