ؑیاعلیؑ یا مدد، یاعلیؑ حیدر
یہ عشق ولا مولا، یہ عشق عزا مولا
دھڑکن ہے نجف میری، دل کرب و بلا مولا
اک در نجف مولا، اک خاک شفا مولا
حر بھی یہیں ملتے ہیں، ملتے ہیں یہیں قنبر
یاعلی مدد، شاہ لافتی، شاہ مرتضیؑ
مولا ایلیاء، یاعلیؑ مدد
یہ نعرہ وہ نعرہ ہے جو حق سے ملاتا ہے
مومن کی منافق کی پہچان کراتا ہے
دل دل سے ملاتا ہے، ایمان بتاتا ہے
ہے قبر میں، برزخ میں محشر میں یہی رہبر
وہ جلتا ہوا صحرا وہ لخت دل حیدر
قربان کیے بیٹے قربان ہوا لشکر
تیروں کے مصلے پر کیا سجدہ تہہ خنجر
کہتے نظر آتے تحے ہر گام یہی سرور
انصار حسینی کا مکتب ہی نرالا ہے
شبیر کی نصرت کا سینوں میں اجالا ہے
کردار حسینی میں اللہ نے ڈھالا ہے
کہتے رہے میداں میں سب تیروسناں کھاکر
اے میرے علیؑ مولا ہو ہم پہ کرم تیرا
سلمان و شناور کے ہو سر پہ علم تیرا
پیچھے ہو قدم اپنے، ہو آگے قدم تیرا
امداد شہہ صفدر، امداد شہہ صفدر
یاعلیؑ مدد، یاعلیؑ حیدرؑ