عباسؑ عباسؑ عباسؑ ، یا عباسؑ
بیٹا ہے تو علیؑ کا زہراؑ کی تو دعا ہے
شبیرؑ تیرا آقا امّ البنینؑ ماں ہے
ہر صورت و چلن میں حیدرؑ سے نہ جدا ہے
تا حشر تجھ سے قائم دُنیا میں بس وفا ہے
برچھی جگر پہ کھائے اکبرؑ بھی سو رہے ہیں
تپتی زمیں پہ قاسمؑ کے ٹکڑے چن رہے ہیں
پکڑے کمر کو اپنی مقتل میں دیکھتے ہیں
تنہا میں رہ گیا ہوں رورو کے کہہ رہے ہیں
جلتے ہوئے ہیں خیمے لٹتی ہوئی ردائیں
سہمے ہوئے ہیں بچے زینبؑ کسے بلائیں
عباسؑ تم کہاں ہو عباسؑ تم کہاں ہو
رورو کے دِل کو تھامے دیتی ہیں یہ صدائیں
شام غریباں میں جس کا کرتا بھی جل گیا ہے
کانوں سے بالیاں بھی ہائے شمر لے گیا ہے
اِس بےبسی سے مولاؑ بچی کوئی نہ ترسے
فرش عزا پہ روکر ہر دِل یہ کہہ رہا ہے
اے فاطمہؑ کے پیارے حیدرؑ کے یہ دلارے
زینبؑ کے ماہ پارے ہاشم کے گھر کے تارے
اک بار ہم کو آقا کرب وبلا بلاؤ
دِل کی مراد سب کی آ کر تجھے سنائیں
تقدیر کے ستائے تیرے در پہ سر جھکائے
اشکوں کی التجا ہم غازیؑ تجھے سنائے
بیمار سارباں کے زخموں کا واسطہ ہے
جتنے بھی خستہ دِل ہیں مولا شِفا وہ پائے