Kiwain darbar gaye bay rida bint e Ali (Urdu)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

کیسے دربار گئی ، بے ردا بنتِ علیؑ
جو تھی نازوں سے پلی ، بڑے نازوں سے پلی

پہنے ہتھکڑیاں وہ جب شام کے بازار آئی
بڑی مجبور تھی لاچار تھی زہراؑ جائی
بولے سجادؑ پھپھی ، بِھیڑ بازار بڑی
تو ہے نازوں سے پلی، بڑے نازوں سے پلی

[--------------------------------
کیویں دربار گئی بے ردا بنتِ علیؑ
جیڑی نازاں دی پلی، بڑے نازاں دی پلی

پا کے ہتھکڑیاں جداں شام دے بازار آئی
ڈاڈھی مجبور تے لاچار سی زہراؑ جائی
آکھے سجادؑ پھپھی، بھیڑ بازار بڑی
توں اے نازاں دی پلی، بڑے نازاں دی پلی
--------------------------------]


جس کو فرمایا نبی پاک نے دل کا ٹکڑا
ہائے افسوس کہ اُس بی بی کا حق بھی نہ دیا
جب وہ خالی لوٹی ، قبر بابے کی ہلی
جو تھی نازوں سے پلی ، بڑے نازوں سے پلی

[--------------------------------
جیں کوں فرمایا نبیؐ پاک نے دل دا ٹکڑا
ہائے افسوس میری سینڑ نوں حق نہ ملیا
او جدوں خالی ولی، قبر بابے دی ہلی
توں اے نازاں دی پلی، بڑے نازاں دی پلی
---------------------------------]


چادریں چھینی ہیں خیمے بھی جلائے نانا
زہراؑ جائیوں کو ہیں بازار پھرائے نانا
شہر بہ شہر پھری ، لُٹ گئی آلِ نبیؐ
جو تھی نازوں سے پلی ، بڑے نازوں سے پلی

[--------------------------------
چادراں لٹیاں تے خیمے وی جلائے لوکاں
فاطمہؑ جائیاں نوں بازار پھرائے لوکاں
شہر دے شہر پھری، لٹ گئی آلِ نبیؐ
توں اے نازاں دی پلی، بڑے نازاں دی پلی
---------------------------------]



بھیا غازیؑ کا ہٹا سر سے ہے جب سے سایہ
بہن زینبؑ نے نہ اِک پل بھی سکوں کا پایا
کبھی کوفے تو کبھی ، شام بازار گئی
جو تھی نازوں سے پلی ، بڑے نازوں سے پلی

[---------------------------------
ویر غازیؑ دا جداں ڈھل گیا سِر توں سایہ
سینڑ زینبؑ نے کدی سکھ دا نہ ویلا پایا
کدی کوفے تے کدی شام دربار گئی
توں اے نازاں دی پلی، بڑے نازاں دی پلی
----------------------------------]


بھائی سجادؑ دُکھی بہن کو دفنا دینا
اجڑی بہنا کو کفن شام کا نہ تم دینا
کر کے ماتم میں چلی ، قبر زنداں میں بنی
جو تھی نازوں سے پلی ، بڑے نازوں سے پلی

[---------------------------------
ویر سجادؑ دکھی بھین کوں چھڈ نہ جاویں
بھیں اگڑی کوں کفن شام دا توں نہ پاویں
کر کے ماتم میں چلی، قبر زنداں چہ بنی
توں اے نازاں دی پلی، بڑے نازاں دی پلی
----------------------------------]



لے کے ہاتھوں پہ سکینہؑ کو یہ عابدؑ سوچے
کون سنتا ہے میری کِس کو میں بولوں جا کے
چار سالوں کی پلی ، بہن مر گئی ہے میری
جو تھی نازوں سے پلی ، بڑے نازوں سے پلی

[---------------------------------
چا کے ہتھاں تےسکینہؑ نوں اے عابدؑ سوچے
کون سنڈدا اے میڈی کس نوں ڈساواں جا کے
چار سالاں ڈئ ڈکھی، بھین مردی اے میری
توں اے نازاں دی پلی، بڑے نازاں دی پلی
----------------------------------]