یاابن الزہراؑ
نہرِ علقمہ پہ اِک اُداسی ہے
دختر حسینؑ بھوکی پیاسی ہے
باوفا كے ہو گئے قلم شانے
غمزدہ رسولؐ کی نواسی ہے
یاابن الزہراؑ
یا حسینؑ آخری نشانِ پنجتن
تشنگی سے ہے نڈھال تیری انجمن
تپتے بن میں آئی کیسی ظلم کی خِزاں
عصر كے قریب لٹ گیا تیرا چمن
یاابن الزہراؑ
بے زبان کی لاش قبر سے نکال کر
ظالمون نے کر دیا جدا بدن سے سر
عرش کانپنے لگا لرز گئی زمین
گر پڑیں رباب آہ بھر كے خاک پر
یاابن الزہراؑ
عصر کو تمام سر قلم کیے گئے
شام کو خیام بھی جلا دیئے گئے
لٹ گیا ہے مال و ذر ردائیں چِھن گئیں
قید عابدِؑ حزین بنا دیئے گئے
یاابن الزہراؑ
عدو نے کی ہیں عابد حزین پہ سختیاں
گلے میں طوق پاؤں میں بھی ڈالی بیڑیاں
جلا دیا جو بسترِ مریضِ کربلا
ہلی زمینِ دشت آئیں سرخ آندھیاں
یاابن الزہراؑ
فکر ہے مجیب كی تقی کی ہے زباں
مقصدِ عزا جو ہو رہا ہے یوں بیاں
شاہ کربلا كے زیر سایہءِ کرم
مدح خوان ایک ہے تو اِک ہے نوحہ خواں
یاابن الزہراؑ