کعبہ ہے سیاہ پوش، فلک محو بکاء ہے
یہ گنبد افلاک سے کیوں شور اٹھا ہے
کہرام بقعیہ کی فضائوں میں بپا ہے
یہ کون گرا، ہائے حسینا، ریتی پر
تھا وقت عصر، عرش معلی پہ شور تھا
واہ حسرت، کہ زیں سے زمیں پر کوئی گرا
کانپی زمیں، چشم ملائک کو یوں لگا
قرآن رحل زیں سے سر فرش گر پڑا
دیوار کعبہ بیٹھ گئی، عرش گر پڑا
گرتے ہی اس کے کعبے کی دیوار گر گئی
سر آسماں کا جھک گیا، دستار گر گئی
انسانیت کی دہر میں سرکار گرگئی
زخموں سے چور چور ہے، جھک کر کمان ہے
حیراں ہے موت، خوف نہیں، اطمینان ہے
یہ ہوگیا معلوم، یہ خاصان خدا ہے
یہ کیسا بشر ہے، جو زمانے سے جدا ہے
کونین میں کیوں اس کیلئے حشر بپا ہے
کیوں اس کیلئے عرش معلی پہ ہے ماتم
روتے ہیں نبی، سارے سیاہ پوش ہیں آدم
یہ مرد خدا، شاہ عرب، اعلی نسب ہے
الحمد سے والناس تلک، اس کا ہی سب ہے
بابا کا نسب، ماں کا حسب، اس کا حسب ہے
تیروں کے مصلے پہ جو سجدے میں گرا ہے
اسلام اسی سر سے مدد مانگ رہا ہے
اے شاہ مشرقین، ہمارا سلام لے
حیدر کے زیب و زین، ہمارا سلام لے
زہرہ کے دل کا چین، ہمارا سلام ہے
انسانیت کے دین کا، ایمان کا سلام
کرلے قبول سرور و ریحان کا سلام