اماں کی نگاہوں سے میرا زخم چھُپانا
بابا میرے سینے میں سِناں ٹوٹ گئی ہے
اس طرح کلیجے میں اُتر آئی ہے برچھی
سینہ نہیں ارمان بھی ماں کے ہوئے زخمی
چاہا تھا میری ماں نے مجھے دولہا بنانا
بابا میرے سینے ۔۔۔۔۔
جی چاہتا ہے آپ کی تسلیم کو اُٹھوں
رُتبے کا تقاضا ہے کے تعظیم کو اُٹھوں
مشکل ہے مگر ہاتھ کلیجے سے ہٹانا
بابا میرے سینے ۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں ضد وہ بہت تم سے کرے گی
تنہا تمہیں زینب کبھی آنے نہیں دے گی
مقتل میں میری پالنے والی کو نہ لانا
بابا میرے سینے ۔۔۔۔۔
یہ سوچ کے اکبر کا پھٹا جاتا ہے سینہ
آواز نہ سُن لے کہیں معصوم سکینہ
سجاد کو آہستہ ذرا جا کے بتانا
بابا میرے سینے ۔۔۔۔۔
اللہ کرے لوٹ کے تم جائو وطن کو
مجبوریاںبھائی کی بتا دینا بہن کو
تم میری طرف سے اُسے سینے سے لگانا
بابا میرے سینے ۔۔۔۔۔
قاتل نے سِناں توڑی تکلم یہی کہہ کر
سُنتا ہے کے صابر ہے بہت سبطِ پیعمبر
اکبر نے کہا صبر کی معراج دیکھانا
کے بابا میرے سینے ۔