آخری سلام آخری سلام
مقتل میں پہونچے جب شاہِ والا
لاشے جواں اور خیموں کو دیکھا
دریا کو دیکھا پھر یہ پکارا
اب یہ سلام آخر ہے میرا
عباسؑ آجاؤ بھائی اکیلا ہے
تنہا مسافر کو لاکھوں نے گھیرا ہے
عباسؑ آجاؤ بھائی اکیلا ہے
تم نے نہ دیکھی غربت ہماری
زینبؑ تھی لائی میری سواری
رخصت کا میری منظر عجب تھا
سینے سے لگ جاؤ بھائی اکیلا ہے
جب سے ہو بچھڑے عباسؑ ہم سے
اہل حرم ہیں لپٹے علم سے
کیسے جئیے گی بالی سکینہؑ
کیا ہوگا بتلاؤ بھائی اکیلا ہے
لشکر کہاں کا جب تم نہیں ہو
اعداء تو خوش ہیں اب تم نہیں ہو
کتنا اکیلا کتنا ہوں تنہا
سینے میں ہے گھاؤ بھائی اکیلا ہے
دن بھر اٹھاۓ کتنے جنازے
اب کون ہے جو دے گا دلاسے
ہوتے اگر تم دیتے دلاسہ
آؤ چلے آؤ بھائی اکیلا ہے
مجھ پر برستے یہ سنگ دیکھو
بیکس کی تنہا ہی جنگ دیکھو
دیکھو نہ ٹوٹے نانا سے وعدہ
ہمت بڑھا جاؤ بھائی اکیلا ہے
جب شمر خنجر کو پھیرتا تھا
قاتل نے شہہ سے جب یہ سنا تھا
پیاسا گلا اس دم یہ پکارا
صورت دکھا جاؤ بھائی اکیلا ہے
سر شہہ کا آیا نوک سناں پر
آئ صدا یہ ریحان و سرور
بے سر پڑا ہے بھائی کا لاشہ
اب تو چلے آؤ بھائی اکیلا ہے