یہ قید میں علی اکبرؑ کی ماں کا نالہ ہے
نہیں وہ چاند جو گھر کا میرے اُجالا ہے
میرے جوان کو نیزوں سے مار ڈالا ہے
کلیجہ توڑ کے برچھی کا پھل نکالا ہے
غضب ہے لاش کو گھوڑوں سے روند ڈالا ہے
یہ قید میں علی اکبر ۔۔۔۔۔
بتائو لوگو! کہ ڈھونڈنے کدھر جائوں
میں اپنے اکبر محرو کو کس طرح پائوں
ملے تو اپنے کلیجے سے اُسکو لپٹائوں
مر گیا ہے یہ کس طرح دل کو اپنے سمجھائوں
ارے کہاں میرا اٹھارہ سال والا ہے
یہ قید میں علی اکبر ۔۔۔۔۔
خُدا کے واسطے اب رن سے آئو اے اکبر
لعیں ستاتے ہیں آ کہ بچائو اے اکبر
کُھلے سروں پہ ردائیں اُڑھائو اے اکبر
پھوپھی کے حال پہ اب رحم کھائو اے اکبر
تڑپ کے کہتی تھی کن کن دُکھوں سے پالا ہے
یہ قید میں علی اکبر ۔۔۔۔۔
بتائو صبر کر لے کس طرح سے یہ مادر
شبیہہ احمدِ مُختار تھے تم اے دلبر
تمہارے غم میں میرے دل پہ چلتے ہیں خنجر
تمہارے بعد جہاں سے گئے علی اصغر
ملال دُگنا ہے دل کو خلق دوبالا ہے
یہ قید میں علی اکبر ۔۔۔۔