بابا کو بچا لے میرے بابا کو بچا لے
عاشور کی شب کہتی تھی رورو کہ سکینہ
بابا کو بچا لے۔۔۔۔۔
تُو ں مالک و مختار ہے سُن لے میرے نالے
بابا کو بچا لے۔۔۔۔۔
اے پالنے والے میرے بابا کو بچا لے
بابا کے بِنا نیند نہیں آئے گی پل بھر
ہو جائوں گی مضطر
اے خالقِ اکبر مجھے دُنیا سے اُٹھا لے
بابا کو بچا لے۔۔۔۔۔
کل صبح و کو ٹوٹے گی مصیبت پہ مصیبت
آئے گی قیامت
ہاتھوں میں عدُو کے ہیں چمکتے ہوئے بھالے
بابا کو بچا لے۔۔۔۔۔
اک سر کے لیے آئے ہیں لاکھوں ستم ﴿ایجاد﴾
ہو جائے گی بے داد
سہمے ہوئے ہیں آج کی شب نازوں کے پالے
بابا کو بچا لے۔۔۔۔۔
ہر خیمے میںجاتی ہے تڑپ کر پھُوپھی اماں
ہے سخت پریشاں
کل خاک میں مل جائیں گے آغوش کے پالے
بابا کو بچا لے۔۔۔۔۔
خیموں میں اُداسی ہے دھڑکتا ہے میرا دل
ہے زندگی مشکل
کل ہوں گے جُدا مجھ سے میرے چاہنے والے
بابا کو بچا لے۔۔۔۔۔
مر جائیں کل میرے چچا اور بھیّا
کوئی نہ بچے گا
اس غم کے طلاطم میں مجھے کون سنبھالے
بابا کو بچا لے۔۔۔۔۔
صد ہیف یہ کہتی تھی کلیم دُخترِ شبیر
بھائی میرا بے شیر
ہو جائے گا کل تیرِ ستمگار کے حوالے
بابا کو بچا لے