عاشور کی شب کرتے تھے اصحاب یہ نوحہ
ہم کیسے چلے جائیں تمہیں چھوڑ کے مولا
کوزے لئے ہاتھوں میں ہیں معصوم سے بچے
ان پیاسوں کو پانی کی بڑی آس ہے ہم سے
مرجائیں گے یہ گر ہمیں جاتے ہوئے دیکھا
ہم کیسے چلے جائیں۔۔۔
عاشور کی شب کرتے ۔۔۔
مانا کہ ضرورت نہیں حضرت کو ہماری
عباس سے بھائی ہیں حفاظت کو تمہاری
زہرا کو مگر پھر بھی ہے منہ ہم نے دیکھانا
ہم کیسے چلے جائیں۔۔۔
عاشور کی شب کرتے ۔۔۔
آنکھوں میں نظر آتی ہے بچی کی غریبی
ڈرتی ہے کہ تنہائی نہ بڑھ جائے پدر کی
آ آ کے ہمیں تکتی ہے حسرت سے سکینہ
ہم کیسے چلے جائیں۔۔۔
عاشور کی شب کرتے ۔۔۔
جس روز سے آباد کیا تم نے یہ جنگل
اک بی بی یہاںروتی ہے راتوں کو مسلسل
لگتا ہے لحد چھوڑ کے خود آئی ہے زہرا
ہم کیسے چلے جائیں۔۔۔
عاشور کی شب کرتے ۔۔۔
کیا عالمِ غربت نبی زادی پہ پڑا ہے
کہنے کی نہیں بات مگر ہم نے سنا ہے
ہے آپ کی زینب کو بہت ہم پہ بھروسہ
ہم کیسے چلے جائیں۔۔۔
عاشور کی شب کرتے ۔۔۔
سینا علی اکبر کا بہت چوم رہے ہو
جو تم پہ گزرتی ہے وہ معلوم ہے ہم کو
ہم لوگ بھی تو صاحبِ اولاد ہیں آقا
ہم کیسے چلے جائیں۔۔۔
عاشور کی شب کرتے ۔۔۔
اکبر جو دیئے خیمے میں غازی نے جلائے
تھا ایسا سمائ شہ کے بھی آنسو نکل آئے
تلوار گلے پر رکھے ہر شخص تھا کہتا
ہم کیسے چلے جائیں۔۔۔
عاشور کی شب کرتے