Zameen pe kat ke giray sar buland honay lagay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi


زمیں پہ کٹ کے گرے، سربلند ہونے لگے
یہ لوگ نوکِ سناں پر بلند ہونے لگے

فضا میں پھیل رہی ہے رسولؑ کی خوشبو
سرِ فرَس علی اکبرؑ بلند ہونے لگے

اُدھر سے نعرۂِ ھلِ من بلند ہونے لگا
اِدھر سے جھولے میں اصغرؑ بلند ہونے لگے

اذانِ ارجعی زخموں پہ سرسراتی ہے
حسینؑ سجدے میں جھک کر بلند ہونے لگے

ابوترابؑ کا بیٹا اگر اشارہ کرے
زمین چھوڑ کے محور بلند ہونے لگے

یہ مشک، مشکِ سکینؑہ ہے اس کو زیبا ہے
کہ یہ علَم کے برابر بلند ہونے لگے

یہ بے ردائی رضائے خدا میں ہے ورنہ
ہر ایک سمت سے چادر بلند ہونے لگے

یہ سر جھکائے جو قیدیؑ خموش بیٹھا ہے
کرے خطاب تو منبر بلند ہونے لگے

میں آسماں کو سناؤں زمین کا نوحہ
بچھاؤں فرشِ عزاِ گھر بلند ہونے لگے

جہاں جہاں بھی دبائی گئی صدائے ضمیر
وہاں وہاں سے بہتّربلند ہونے لگے

جھکائے سر جو اٹھا کر بیاضِ سوز و سلام
حضورِ شاہؑ سخنور بلند ہونے لگے

یہ میرا شانۂِ کم زور و مضمحل، مولا
بہ فیضِ ماتمِ سرورؑ بلند ہونے لگے


محتاجِ دعا
فقیرعارف امام