خوں سے رنگین ہوئی کرب و بلا
کربلا آج بھی ہے کرب و بلا
وعدہ تفلی کا نبھانے کو چلے
امّتِ جد کو بچانے کو چلے
پیاس خنجر کی بجھانے کو چلے
ہو گا کچھ دیر میں سَر تن سے جدا ، کربلا آج بھی ہے
خوں سے رنگین ہوئی کرب و بلا
کربلا آج بھی ہے کرب و بلا
نور آنکھوں کا جو تھا روٹھ گیا
سہرا قاسمؑ کا تیرے ٹوٹ گیا
تیرا عباسؑ تجھ سے چھوٹ گیا
تیر ششماہے مجاہد پہ چلا ، کربلا آج بھی ہے
خوں سے رنگین ہوئی کرب و بلا
کربلا آج بھی ہے کرب و بلا
بعدِ شبیرؑ یہ کہتا تھا لعیں
گھر والو کرنا ہے آرام نہیں
جنگ میں فوجی بھی رکتے ہیں کہیں
لُوٹو سادات کو اور چھینو ردا ، کربلا آج بھی ہے
خوں سے رنگین ہوئی کرب و بلا
کربلا آج بھی ہے کرب و بلا
پھٹتا تھا سینہ جو کہتی تھی بہن
اے غریب الوطن اے تشنہ دھن
قید میں جاتی ہوں بندھوا كے رسن
آؤں گی کرنے اب چہلم میں تیرا ، کربلا آج بھی ہے
خوں سے رنگین ہوئی کرب و بلا
کربلا آج بھی ہے کرب و بلا
ایک رسی میں بندھے بارہ گلے
ہائے یہ ظلم اور نازوں كے پلے
کِس سے شکوہ کرے نصیب جلی
کوئی پردیس میں اپنا نہ رہا ، کربلا آج بھی ہے
خوں سے رنگین ہوئی کرب و بلا
کربلا آج بھی ہے کرب و بلا
آگ خیموں میں لگی کنبہ لُٹا
کرتا نادان سكینہؑ کا جلا
جھولا ششماہے کا باقی نہ رہا
آگے تقدیر میں کیا کیا ہے لکھا ، کربلا آج بھی ہے
خوں سے رنگین ہوئی کرب و بلا
کربلا آج بھی ہے کرب و بلا
کیسے بہلائے سكینہؑ کو بہن
رااات دن روتی ہے اسیرِ مہن
لاش اُس نے بھی تو دیکھی بے کفن
اور تیرے دفن کا ساماں نہ ہوا ، کربلا آج بھی ہے
خوں سے رنگین ہوئی کرب و بلا
کربلا آج بھی ہے کرب و بلا
اپنوں میں آج کوئی بات نہیں
اکبرؑ و قاسمؑ و عباسؑ نہیں
مجھ کو اب بھوک نہیں پیاس نہیں
تو ہے بے گور و کفن میں بے ردا ، کربلا آج بھی ہے
خوں سے رنگین ہوئی کرب و بلا
کربلا آج بھی ہے کرب و بلا
دیکھوں کن آنکھوں سے منظر یہ اخی
سر تیرا طشت میں ہے اور شقی
مــارتا ہے لب و دنداں پر چھڑی
کاش آ جاتی مجھے پہلے قضا ، کربلا آج بھی ہے
خوں سے رنگین ہوئی کرب و بلا
کربلا آج بھی ہے کرب و بلا
ماؤن کی گود میں بچے نہ رہے
پشت سے اونٹوں کی گر گر كے مرے
ہم جو روئے تو عدو خوب ہنسے
مردہ بچوں کو اُٹھانے نہ دیا ، کربلا آج بھی ہے
خوں سے رنگین ہوئی کرب و بلا
کربلا آج بھی ہے کرب و بلا
روتے ہیں جن و ملك اور بشر
آنکھیں ہر ایک کی اشکوں سے ہیں تر
سُن كے ہر ایک کا پھٹتا ہے جگر
نوحہ نوشاد نے کچھ ایسا لکھا ، کربلا آج بھی ہے
خوں سے رنگین ہوئی کرب و بلا
کربلا آج بھی ہے کرب و بلا