کیا ہوا کیوں اُداس بیٹھا ہے
تُو عزادارِ ابنِ زہرا ہے
چل وہاں رب جہاں پہ ملتا ہے
چل جہاں پنجتن کا سایا ہے
وہ سخی در کھلا ہی رہتا ہے
چھوٹے حضرت کی بارگاہ چلو
چلو عباسؑ کی درگاہ چلو
انکی درگاہ سے سوغاتِ وفا ملتی ہے
نامِ زینب پہ یہاں سب کو ردا ملتی ہے
زائروں آئوسکینہ کی دُعا ملتی ہے
میرے سقّے کے عزادار جیو
چلو عباسؑ کی ۔۔۔
چھوٹے حضرت کی۔۔۔
ہاں یہی بابِ حوائج دُعائے زہرا
یہ علیؑ کا سراپا تو حسنؑ کا چہرہ
ان کوکہتے ہیں حسین ابن علیؑ کا پیارا
پنجتن پاکؑ کے پیارے سے کہو
چلو عباسؑ کی ۔۔۔
چھوٹے حضرت کی۔۔۔
حاضری اِنکی جب ہوتی ہے دیے جلتے ہیں
مصطفی فاطمہ حثنین و علی آتے ہیں
مل کے سب مادرِعباسؑ سے فرماتے ہیں
آئو عباسؑ کی تم نظر تو دو
ِچلو عباسؑ کی ۔۔۔
چھوٹے حضرت کی۔۔۔
اِن کا جب آٹھ محرم کو علم اُٹھتا ہے
ایک مشکیزہ بھی پنجے سے بندھا رہتا ہے
اُس پہ سقّائے سکینہ بھی لکھا رہتا ہے
یہ علم کیا ہے سکینہ سے سنو
چلو عباسؑ کی ۔۔۔
چھوٹے حضرت کی۔۔۔
جس نے نو لاکھ کے لشکر کا بھرم توڑدیا
اُس پہ اک مشک کے چھدنے نے ستم توڑدیا
یا سکینہ کہا اور خاک پہ دم توڑدیا
مل کے سب ماتمِ عباسؑ کرو
چلو عباسؑ کی ۔۔۔
چھوٹے حضرت کی۔۔۔
ضامنِ چادرِزینب تھے علمدارِ وفا
جس گھڑی ثانیئ زہرا سے یہ فضّہ نے کہا
چادریںاپنی سنبھالو کہ وہ غازی نہ رہا
پرسہ اب زینب و کلثوم کو دو
چلو عباسؑ کی ۔۔۔
چھوٹے حضرت کی۔۔۔
چھوٹے حضرت کی غلامی کا شرف پایا ہے
ربّ ِکعبہ کی قسم یہ بڑا سرمایا ہے
نوحہ جو سروروریحان سے پڑ ھ وایا ہے
شکرِ مولا چلو غازی سے کہو
چلو عباسؑ کی ۔۔۔
چھوٹے حضرت کی۔۔۔
چھوٹے حضرت حسین کے بھائی
چھوٹے حضرت با حقِ سقّائی
تم وسیلہ ہو غم کے ماروں کا
تم وسیلہ ہو بے سہاروں کا
بارگاہِ خدا میں اے غازی
آپ کی بات رد نہیں ہوتی
دل کی اُلجھن نکال دو مولا
میری مشکل کو ٹال دو مولا
یہ گناہ گار بھی تمہارا ہے
اس لیئے آپ کو پکارا ہے
درد کی اب کوئی دوا بھیجو
اب مجھے کربلا بُلا بھیجو
واسطہ سیدِ مدینہ کا
واسطہ زینب و سکینہ کا
بی بی اُم البنین کا صدقہ
واسطہ پنجتن کا دیتا ہوں
واسطہ بے کفن کا دیتا ہوں
چھوٹے حضرت حسین کے بھائی