سادات بے ردا ہیں عابدؑ کا سر جھکا ہے
شام آرہا ہے
سارا لہو بدن کا آنکھوں میں آگیا ہے
شام آرہا ہے
بھائی کا سر جہاں تھا بی بی وہاں پہ آئی
بولی یہ سر جھکا کے کرنا دعائیں بھائی
زینب کی کربلا کا آغاز ہو رہا ہے
شام آرہا ہے
امّت کھڑی ہوئی ہے جھولی میں لے کے پتھر
زنجیر که رہی ہے چلنا سنبھل سنبھل کر
اہل حرم کا مقتل کچھ دور رہ گیا ہے
شام آرہا ہے
نیزے پہ سر جواں کا دیکھا تو ماں یہ بولی
اکبر یہ التجا ہے تجھ سے غریب ماں کی
چادر کہیں سے لا دے زینب کا سر کھلا ہے
شام آرہا ہے
اعلان ہو رہا ہے جلدی بلایا جائے
زہراؑ کی بیٹیوں کو پیدل چلایا جائے
کوفے کی منزلوں سے یہ سخت مرحلہ ہے
شام آرہا ہے
زینب نے جب یہ پوچھا یہ کونسی ہے بستی
سجاد میرے دل پر لگتی ہے غم کی برچھی
ہاۓ دبی زبان سے بیمار نے کہا ہے
شام آرہا ہے
یہ فضل سے رقیہ کہتی ہے اے بھتیجے
زینب کی میں ہوں ضامن باقر تیرے حوالے
دونوں نے کام اپنا تقسیم کر لیا ہے
شام آرہا ہے
زینب کے گرد بہنیں پردہ بنا رہی ہیں
خود بے ردا ہیں لیکن اسکو چھپا رہی ہیں
اکبر ستم گروں نے اعلان کر دیا ہے
شام آرہا ہے