Na royi Zainab(sa)
Efforts: Zehra Ali

شاہد بلتستانی۔۔۔۔۔۔نوحہ۔۔۔۔بی بی زینبؑ۔۔۔۔۔۲۰۱۴ـ۲۰۱۵    
نہ رویٔ زینبؑ
زینب سا زمانے میں عزادار کہاں ہے
ہمشیر تھی بن کر رہی شبیر کی ماں ہے
تو مستقل شہ کی عزادار رہی
اپنے بچوں کو نہ رویٔ زینبؑ
       عمر بھر بھایٔ کو روتی ہی رہی؛  اپنے بچوں کو نہ رویٔ زینب

۱۔ لاشے میداں سے جو لاۓ مولا
سجدۂ شکر ادا اس نے کیا
ممتا کہتی رہی ماں سے پھر بھی
اپنے بچوں کو نہ رویٔ زینبؑ

۲۔ پرسہ بی بی نے بھرے گھر کا دیا
زکر بیٹوں کا کہاں اس نے کیا
آۓ جب شامِ غریباں میں علیؑ

۳۔ یاد کمسن کی رہی پیاس اسے
اتنا ممتا کا تھا احساس اسے
سامنے مادرِ اصغر کے کبھی
۴۔ اپنا ایک ہاتھ کلیجے پہ رکھے
اٹھ گیٔ دنیا سے روتے روتے
غمِ اکبر کی سِنا ایسے لگی

۵۔ اِس طرف عون و محمد کے تھے سر
راہ میں کی نہیں اس سمت نظر
دیکھ کر غازی کا سر روتی رہی

۶۔ سر جو زنداں میں شہیدوں کے ملے
پیار تھا کتنا اسے بھایٔ سے
سر لیے گود میں وہ بیٹھی رہی

۷۔ بن کے وہ عون و محمد کی بہن
اس طرح رویٔ لرز اٹھا وطن
جب خبر فاطمہ صغرا کو ملی
۸۔ ماں نے بیٹوں کے جو حجرے دیکھے
آنسوں آنکھوں سے تکلم نکلے
پہلے اس دن سے نہ بعد اس کے کبھی
اپنے بچوں کو نہ رویٔ زینب
       عمر بھر بھایٔ کو روتی ہی رہی
                                    اپنے بچوں کو نہ رویٔ زینب
*************************************