Rassi me galla hay Baqir ka
Efforts: Zehra Ali

شاہد بلتستانی۔۔۔۔۔۲۰۱۴۔۔۲۰۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ بی بی سکینہؑ
رسّی میں گلہ
چل پڑا کرب وبلا سے جب حسینی قافلہ
اک رسن میں پستِ عابد اور تھا باقر کا گلہ
سانس خنجر کی طرح محسوس جب ہونے لگی
اپنے بابا جان سے رو کر یہ باقر نے کہا
                                   اے میرے بابا           اے میرے بابا
                     رسّی میں گلہ ہے باقر کا        تُو ہولے ہولے چل بابا
                     مشکل ہے سفر مر جاؤ گا       تُو ہولے ہولے چل بابا
۱۔  پڑھنی ہے نمازِ مظلومی                        بابا تو امامت کرتا جا
   خود دھوپ بھی ہم پر روتی ہے                 جلتا ہے مصّلہ ریتی کا
                               میں شُکر کا سجدہ کر لو ادا                            
                                  تُو ہولے ہولے چل بابا
۲۔ کلثوم سکینہ زینب ہے                          اور ساتھ رقیہ بی بی ہے 
   اس ایک رسن میں اے بابا                     ہر عمر کی زہرا قیدی ہے
                             گرتی ہے میری اماں فضہ
                               تُو ہولے ہولے چل بابا
۳۔ اب دھوپ میں اتنی شدت ہے                جلتے ہیں اسیری کے زیور
    پانی تو نہیں ہے آنسوں ہی                  میں ان پہ چھڑک دوں گا آکر
                           آرام تجھے مل جاۓ گا
                            تُو ہولے ہولے چل بابا
۴۔ آنکھوں سے رواں ہے خون تیرے         جو تیری پھوپھی ھے بےپردہ
   میری بھی پھوپھی ھے بےچادر            وہ نام سکینہ ہے جس کا
                         کھچتا ہے رسن سے اس کا گلہ 
                             تُو ہولے ہولے چل بابا
۵۔ اسلام بچانے کی خاطر                     نکلی ہے شرافت بے چادر
   پاؤں کے چھالے روتے ہیں                چلتی ہے امامت کانٹوں پر
                            یہ پہلا سفر ہے زینب کا
                             تُو ہولے ہولے چل بابا
۶۔ دیکھا نہیں جاتا اے بابا                   مجھ سے یہ قیامت کا منظر
   رُکتی ہے کبھی جلتی ہے کبھی          زینب کے بدلتے ہیں طیور
                             یہ شام کو جاتا ہے رستہ
                            تُو ہولے ہولے چل بابا
۷۔ گِر گِر کے جو چلتی ہے زینب          محسوس مجھے بھی ہوتا ہے
   سجاد پکارے اے بیٹا	 میرا بھی کلیجہ پھٹتا ہے
                          جب سنتا ہوں تیرا نوحہ
                           تُو ہولے ہولے چل بابا
۸۔ گر تیز چلا تو اے بیٹا                   بازارِ ستم آ جاۓ گا
   آہستہ اگر بیمار چلے                    درّوں کی اذیت کھاۓ گا
                        اور تیرے لبوں پر ہے نوحہ
                          تُو ہولے ہولے چل بابا
                    اے میرے بیٹا      اے میرے بیٹا
۹۔ منظور اذیت ہے مجھ کو              باقر نے تکلم دی یہ صدا
   ہر گام پہ تیری مرٖضی ہے            تو جیسے چاہے چل بابا
                        میں اب نہ کہوں گا اے بابا
                          تُو ہولے ہولے چل بابا
       رسّی میں گلہ ہے باقر کا        تُو ہولے ہولے چل بابا
            *************************************